اور وہ دوسرے نشان جو خدا تعالیٰ نے میرے ہاتھ پر ظاہر کئے صدہا نشان ہیں جن کے نہ ایک نہ دو گواہ بلکہ تمام دنیا گواہ ہے۔ دیکھو! ابھی تازہ نشان ظہور میں آیا ہے جس کاذکرپیش از وقت ضمیمہ رسالہ انجام آتھم کے صفحہ ۵۸ میں ہے اور وہ یہ عبارت ہےؔ ’’ ایک چوتھے لڑکے کے پیدا ہونے کا مجھے متواتر الہام ہوا ہے۔ اور ہم عبد الحق (غزنوی) کو یقین دلاتے ہیں کہ وہ نہیں مر ے گا جب تک کہ اس الہام کا پورا ہونا نہ سن لے۔ اگر وہ کچھ چیز ہے تو دعا سے اِس پیشگوئی کو ٹال دے ‘‘ دیکھو صفحہ ۵۸ ضمیمہ رسالہ انجام آتھم ۔ اب دیکھو یہ کس قدر باعظمت پیشگوئی ہے کہ ایک کے پیدا ہونے کی قبل از وقت خبردی گئی اور ایک کی زندگی کی ذمہ داری اُس وقت تک لی گئی جب تک کہ وہ لڑکا جس کی خبر دی گئی پیدا ہو جائے ۔ سو الحمد للہ کہ بتاریخ ۴؍ صفر ۱۳۱۷ ھ مطابق ۱۴؍ جون ۱۸۹۹ ء روز چہارشنبہ وہ مولود مسعود پیدا ہوگیا جس سے پہلے تین لڑکے اس کے حقیقی بھائی پیدا ہوچکے ہیں جو اب تک موجود ہیں۔ جن کی نسبت پیشگوئی میں بیان کیا گیا تھا کہ ضرور ہے کہ وہ پیدا ہولیں اور پھر چوتھا پیدا ہو۔ جس کا دوشنبہ سے تعلق ہے ۔ سو ایسا ہی ظہور میں آیا اور قضا وقدر کی کشش سے نہایت مجبوریاں پیش آکر چوتھے لڑکے کا عقیقہ پیر کے د ن ہوا۔ تا وہ پیشگوئی پوری ہو جو ۲۰؍ فروری ۱۸۸۶ ء میں ایک اشتہار میں درج ہوکر شائع کی گئی تھی جس کے یہ لفظ تھے کہ ’’ دو شنبہ ہے مبارک دو شنبہ ‘‘۔
غرض یہ عجیب تر بات ہے کہ آج سے چودہ برس پہلے اشتہار ۲۰ فروری ۸۶ء میں اُس زمانہ میں یہ پیشگوئی شائع کی گئی تھی کہ جب کہ ان ہر چہار موعود لڑکوں میں سے ایک بھی ابھی پیدا نہیں ہوا تھا۔ اور یہ بات بھی ایک حیرت انگیز نشان ہے کہ انسان اپنے دعوے کی تائید میں چار لڑکوں کے پیدا ہونے کی پیشگوئی ایسے وقت کرے کہ جبکہ ان میں سے ایک کا بھی وجود نہ ہو۔ اور جبکہ وہ خود پیرانہ سالی کے سن تک پہنچا ہو۔ اور ماسوا اِس کے دائم المرض ہو۔ اور پسر چہارم کے لئے یہ شرط لگادی کہ فلاں آدمی ابھی نہیں مرے گا جب تک