شیر اور بکری ایک گھاٹ سے پانی پئیں گے اور سانپوں سے بچے کھیلیں گے اور بھیڑیئے اپنے حملوں سے باز آئیں گے۔ یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ وہ ایک ایسی سلطنت کے زیر سایہ پیدا ہوگا جس کا کام انصاف اور عدل گستری ہوگا۔ سو اِن حدیثوں سے صریح اور کھلے طور پر انگریزی سلطنت کی تعریف ثابت ہوتی ہے کیونکہ وہ مسیح اِسی سلطنت کے ماتحت پیدا ہوا ہے اور یہی سلطنت ہے جو اپنے انصاف سے سانپوں کو بچوں کے ساتھ ایک جگہ جمع کر رہی ہے اور ایسا امن ہے کہ کوئی کسی پر ظلم نہیں کرسکتا۔ اس لئے مجھے جو میں مسیح موعود ہوں زمین کی بادشاہت سے کچھ تعلق نہیں بلکہ ضرور تھا کہ میں غربت اور مسکینی سے آتا۔ تا اس اعتراض کو دنیا پر سے اُٹھا دیتا کہ ’’ اسلام تلوار سے پھیلا ہے نہ آسمانی نشانوں سے ‘‘ کیونکہ مسیح موعود کا آنا عیسائی خیالات کی شکست کے لئے تھا۔ پھر جبکہ مسیح نے خود ہی جبر کرناشروع کیا اور تلوار سے لوگوں کو مسلمان کرنے لگا اور ایسی تعلیم دینے لگا تو اس صورت میں وہ عیسائیوں کے اُن اعتراضات کو اور پختہ کرے گا جو جہاد کے بارے میں اسلام کی نسبت وہ رکھتے ہیں۔ نہ یہ کہ ان کو دُور کردے گا۔ اِس لئے خدا کے سچے مسیح اور مہدی کے لئے ضروری ہے کہ آسمانی نشانوں کے ساتھ دین کو پھیلا وے تا وہ لوگ شرمندہ ہوں جنہوں نے خدا کے دین اسلام پر ناحق جھوٹے الزام لگائے۔ سو اِسی وجہ سے میں نشانوں کے ساتھ بھیجا گیا ہوں اور ایک بڑا بھاری معجزہ میرا یہ ہے کہ میں نے حسی بدیہی ثبوتوں کے ذریعہ سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی وفات کو ثابت کردیاہے اور ان کی جائے وفات اور قبرکا پتہ دے دیا ہے ۔ چنانچہ جو شخص میری کتاب مسیح ہندوستان میں اوّل سے آخر تک پڑھے گا ۔ گو وہ مسلمان ہو یاعیسائی یا یہودی یا آریہ۔ ممکن نہیں کہ اس کتاب کے پڑھنے کے بعد اس بات کا وہ قائل نہ ہو جائے کہ مسیح کے آسمان پر جانے کا خیال لغو اور جھوٹ اور افترا ہے۔ غرض یہ ثبوت نظری حد تک محدود نہیں بلکہ نہایت صاف اور اجلیٰ بدیہیات ہے جس سے انکار کرنا نہ صرف بعید از انصاف بلکہ انسانی حیا سے دُور ہے۔