کے بدن کو توڑا تھا اور زخمی کیا تھا۔ مگر جس وقت حضرت مسیح کا بدن صلیب کی کیلوں سے توڑا گیا اس زخم اور شکست کے لئے تو خدا نے مرہم عیسیٰ طیار کردی تھی جس سے چند ہفتوں میں ہی حضرت عیسیٰ شفاپاکر اس ظالم ملک سے ہجرت کرکے کشمیر جنت نظیر کی طرف چلے آئے۔ لیکن اس صلیب کا توڑنا جو اُس پاک بدن کے عوض میں توڑاجائے گا جیسا کہ صحیح بخاری میں ذکر ہے ایسا نہیں ہے جیسا کہ مسیح کا مبارک بدن صلیب پر توڑا گیاجو آخرمرہم عیسیٰ کے استعمال سے اچھا ہوگیا بلکہ اس کے لئے کوئی بھی مرہم نہیں جب تک کہ عدالت کادن آئے۔ یہ خدا کا کام ہے جو اُس نے اپنا ارادہ اس نہایت عاجز بندہ کے ذریعہ سے پورا کیا۔ مگر اِس بات کو یاد رکھنا چاہئے کہ بخاری کی یہ حدیث کہ مسیح آئے گا اور صلیب کو توڑے گا وہ معنے نہیں رکھتے جو ہمارے قابلِ رحم علماء بیان کرؔ تے ہیں۔ کیونکہ انہوں نے اپنی کوتہ اندیشی سے یہ سمجھا ہوا ہے کہ مسیح دنیا میں آکر ایک بڑے جہاد کا دروازہ کھولے گا۔ اور محمد مہدی خلیفہ سے مل کر دین پھیلانے کے لئے لڑائیاں کرے گا۔ اور تلوار اُٹھائے گا اور ایک بڑی خونریزی ہوگی جو دنیا کے ابتدا سے اس وقت تک کبھی نہیں ہوئی ہوگی۔ اور یہاں تک خونریزی کرے گا جو زمین کو خون سے بھر دے گا سو یاد رہے کہ یہ عقیدہ سراسر باطل ہے بلکہ وہ حق محض جوخدا نے ہمیں سمجھایا ہے یہ ہے کہ مسیح جس کا دوسرانام مہدی ہے دنیا کی بادشاہت سے ہرگز حصہ نہیں پائے گا بلکہ اس کے لئے آسمانی بادشاہت ہوگی۔ اور یہ جو حدیثوں میں آیا ہے کہ مسیح حکم ہوکر آئے گا اوروہ اسلام کے تمام فرقوں پر حاکم عام ہوگاجس کا ترجمہ انگریزی میں گورنرجنرل ہے سو یہ گورنری اُس کی زمین کی نہیں ہوگی بلکہ ضرور ہے کہ وہ حضرت عیسیٰ ابن مریم کی طرح غربت اور خاکساری سے آوے ۔سو ایسا ہی وہ ظاہر ہوا تا وہ سب باتیں پوری ہوں جو صحیح بخاری میں ہیں کہ یضع الحرب یعنی وہ مذہبی جنگوں کو موقوف کردے گا اور اُس کا زمانہ امن اور صلح کاری کا ہوگا۔ جیسا کہ یہ بھی لکھا ہے کہ اُس کے زمانہ میں