طالبِ حق ہے یا ہندوؤں اور آریوں میں سے سچائی کا متلاشی ہے تو میدان میں نکلے۔ اور اگر اپنے مذہب کو سچا سمجھتاہے تو بالمقابل نشان دکھلانے کے لئے کھڑا ہو جائے لیکن میں پیشگوئی کرتا ہوں کہ ہرگز ایسانہ ہوگا۔بلکہ بدنیتی سے پیچ درپیچ شرطیں لگاکر بات کو ٹال دیں گے کیونکہ ان کا مذہب مُردہ ہے اورکوئی ان کے لئے زندہ فیض رسان موجود نہیں جس سے وہ روحانی فیض پاسکیں اور نشانوں کے ساتھ چمکتی ہوئی زندگی حاصل کرسکیں۔ اے تمام وہ لوگو جو زمین پر رہتے ہو! اور اے تمام وہ انسانی روحو جو مشرق اور مغرب میں آباد ہو! میں پورے زور کے ساتھ آپ کو اس طرف دعوت کرتا ہوں کہ اب زمین پر سچا مذہب صرف اسلام ہے اور سچا خدا بھی وہی خدا ہے جو قرآن نے بیان کیاہے۔ اور ہمیشہ کی روحانی زندگی والا نبی اورجلال اور تقدّس کے تخت پر بیٹھنے والا حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم ہے جس کی روحانی زندگی اور پاک جلال کا ہمیں یہ ثبوت ملا ہے کہ اس کی پیروی اور محبت سے ہم رُوح القدس اور خدا کے مکالمہ اور آسمانی نشانوں کے انعام پاتے ہیں۔ گو ہم اِس بات پر ایمان رکھتے ہیں کہ حضرت مسیح اور حضرت موسیٰ اور دوسرے اسرائیلی نبی بھی خدا کی طرف سے ہیں۔ لیکن اُن کی سچائی پر ہمارے پاس بجز اس کے اور کوئی دلیل نہیں ہے کہ قرآن شریف نے اُن کو نبی مان لیا ہے۔ اُن کی روحانی زندگی بدیہی نشانوں کے ساتھ ثابت نہیں ہے اور اس کا یہ سبب ہے کہ وہ مذہب اور وہ کتابیں بباعث تحریف کے خراب ہوچکی ہیں۔ اس لئے ان نبیوں کی سچی پیروی کی کوئی راہ باقی نہیں رہی تا اس سے ان کی روحانی زندگی کا ثبوت مل سکتا۔ اور عیسائی جس دین کو پیش کرتے ہیں وہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا دین نہیں ہے بلکہ یہ پادریوں کی اپنی طبیعت کی ایجاد ہے ۔ بہت سی انجیلوں میں سے یہ چار انجیلیں انتخاب کی گئی ہیں جن کو بعض یونانیوں نے حضرت مسیح سے بہت پیچھے بناکر حضرت مسیح کی طرف منسوب کردیا اور کوئی عبرانی انجیل عیسائیوں کے پاس موجود نہیں ہے اور ناحق افترا کے طور پر حضرت مسیح کو ایک یونانی آدمی تصور کرلیا ہے