جس میں فیض نہیں۔ دنیا میں صرف دو زندگییں قابلِ تعریف ہیں۔ (۱) ایک وہ زندگی جو خود خدائے حیّ قیوم مبدء فیض کی زندگی ہے۔ (۲) دوسری وہ زندگی جو فیض بخش اور خدا نما ہو۔ سو آؤ ہم دکھاتے ہیں کہ وہ زندگی صرف ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی ہے۔ جس پر ہر ایک زمانہ میں آسمان گواہی دیتا رہاہے اور اب بھی دیتا ہے۔ اور یاد رکھو کہ جس میں فیّاضانہ زندگی نہیں وہ مُردہ ہے نہ زندہ۔ او رمیں اُس خدا کی قسم کھاکر کہتا ہوں جس کا نام لے کر جھوٹ بولنا سخت بد ذاتی ہے کہ خدا نے مجھے میرے بزرگ واجب الاطاعت سیّدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی روحانی دائمی زندگی اور پورے جلال اور کمال کا یہ ثبوت دیا ہے کہ میں نے اُس کی پیروی سے اور اس کی محبت سے آسمانی نشانوں کو اپنے اوپر اُترتے ہوئے اور دل کو یقین کے نور سے پُر ہوتے ہوئے پایا اور اس قدر نشان غیبی دیکھے۔کہ اُن کھلے کھلے نوروں کے ذریعہ سے میں نے اپنے خدا کو دیکھ لیا ہے ۔ خدا کے عظیم الشان نشان بارش کی طرح میرے پر اُتر رہے ہیں اور غیب کی باتیں میرے پر کھل رہی ہیں۔ ہزارہا دعائیں اب تک قبول ہوچکی ہیں۔ اور تین ہزار سے زیادہ نشان ظاہر ہوچکا ہے۔ ہزارہا معزز اور متقی اور نیک بخت آدمی اور ہرقوم کے لوگ میرے نشانوں کے گواہ ہیں اور تم خود گواہ ہو۔ اور مجھے اُس خدا کی قسم ہے جس نے مجھے بھیجا ہے کہ اگر کوئی سخت دل عیسائی یا ہندو یا آریہ میرے اُن گذشتہ نشانوں سے جو روز روشن کی طرح نمایاں ہیں انکار بھی کردے اور مسلمان ہونے کے لئے کوئی نشان چاہے اور اس بارے میں بغیر کسی بیہودہ حجت بازی کے جس میں بد ؔ نیتی کی بو پائی جائے سادہ طور پر یہ اقرار بذریعہ کسی اخبار کے شائع کردے کہ وہ کسی نشان کے دیکھنے سے گو کوئی نشان ہو لیکن انسانی طاقتوں سے باہر ہو اسلام کو قبول کرے گا تو میں اُمید رکھتا ہوں کہ ابھی ایک سال پورا نہ ہوگا کہ وہ نشان کو دیکھ لے گا کیونکہ میں اُس زندگی میں سے نور لیتا ہوں جو میرے نبی متبوع کو ملی ہے۔ کوئی نہیں جو اس کا مقابلہ کرسکے۔ اب اگر عیسائیوں میں کوئی