حالانکہ حضرت مسیح کی مادری بولی عبرانی تھی کوئی ثابت نہیں کرسکتا کہ کبھی حضرت مسیح نے ایک فقرہ یونانی کا بھی کسی سے پڑھا تھا اور نہ حواریوں نے جو اُمّی محض تھے کسی مکتب میں یونانی سیکھی بلکہ وہ ہمیشہ ماہی گیروں کے کام کرتے رہے۔ اب چونکہ عیسائیوں کو یہ سخت مصیبت پیش آئی کہ کوئی عبرانی انجیل موجود نہیں صرف قریباً ساٹھ انجیلیں یونانی میں ہیں جو باہم متناقض ہیں جن میں سے یہ چار چن لی گئیں جو وہ بھی باہم مخالفت رکھتی ہیں بلکہ ہر ایک انجیل اپنی ذات میں بھی مجموع ۂ تناقضات ہے۔ ان مشکلات کے لحاظ سے یونانی کو اصل زبان ٹھہرایا گیا ہے لیکن یہ اس قدر بیہودہ بات ہے کہ اس سے اندازہ ہوسکتا ہے کہ ان پادری صاحبوں نے کس قدر جھوٹ اور جعل سازی پر کمر باندھی ہے۔ حضرت مسیح کے وقت میں رُومی سلطنت تھی اور گورنمنٹ کی لاطینی زبان تھی اور حضرت مسیح کو چونکہ گورنمنٹ سے کوئی تعلق ملازمت نہ تھا اور نہ ریاست اور جاہ طلبی کی خواہش تھی اس لئے انہوں نے لاطینی کو بھی نہیں سیکھا۔ وہ ایک مسکین اور عاجز اور غریب طبع اور سادہ وضع انسان تھا۔ اُس کو وہی بولی یاد تھی جو ناصرہ میں اپنی ماں سے سیکھی تھی یعنی عبرانی جو یہودیوں کی قومی بولی ہے اور اسی بولی میں توریت وغیرہ خدا کی کتابیں تھیں * غرض یہ ؔ چاروں انجیلیں جو یونانی سے ترجمہ ہوکر اس ملک میں پھیلائی جاتی ہیں ایک ذرہ قابل اعتبار نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی پیروی میں کچھ بھی برکت نہیں خدا کا جلال اُس شخص کو ہرگز نہیں ملتا جو اِن انجیلوں کی پیروی کرتا ہے بلکہ یہ انجیلیں حضرت مسیح کو بدنام کر رہی ہیں کیونکہ ایک طرف تو اِن انجیلوں میں سچے عیسائی کی یہ علامتیں ٹھہرائی گئی ہیں کہ وہ آسمانی نشانوں کے دکھلانے پر قادر ہو۔ اور دوسری طرف عیسائیوں کا یہ حال ہے کہ وہ ایک مُردہ حالت میں پڑے ہوئے ہیں اور ایک ذرہ آسمانی برکت ان کے ساتھ نہیں اور کوئی نشان دکھلا نہیں سکتے اس لئے وہ علامتوں کا ذکر کرنے کے وقت ہمیشہ * صلیب پر جبکہ حضرت مسیح کو موت کا سامنا معلوم ہوتاتھا اُس وقت بھی عبرانی فقرہ زبان پر جاری ہوا اور وہ یہ ہے کہ۔ ایلی ایلی لما سبقتانی۔ منہ