ظاہر ہوا تھا * اور خود حضرت مسیح علیہ السلام کی اس مثال کے موافق جو آپ نے یونس نبی کا تین دن مچھلی کے پیٹ میں رہنا اپنے انجام کار کا ایک نمونہ ٹھہرایا تھا آپ کو خدا تعالیٰ نے صلیب او راس کے پھل سے جو *** ہے نجات بخشی اور آپ کی یہ دردناک آواز کہ ایلی ایلی لما سبقتانی*جناب الٰہی میں سنی گئی ۔ یہ وہ کھلا کھلا ثبوت ہے جس سے ہر ایک حق کے طالب کا دل بے اختیار خوشی کے ساتھ اچھل پڑے گا۔ سو ؔ بلاشبہ یہ ہماری ملکہ معظمہ قیصرہ ہند کی برکات کا ایک پھل ہے جس نے حضرت مسیح علیہ السلام کے دامن کو تخمیناً انیس ۱۹۰۰ سو برس کی بیجا تہمت سے پاک کیا۔
اب میں مناسب نہیں دیکھتا کہ اس عریضہ نیاز کو طول دوں۔ گو میں جانتا ہوں کہ جس قدر میرے دل میں یہ جوش تھاکہ میں اپنے اخلاص اور اطاعت اور شکرگزاری کو حضور قیصرہ ہند دام ملکہا میں عرض کروں۔ پورے طور پر میں اس جوش کو ادا نہیں کرسکا ناچار دعا پر ختم کرتاہوں کہ اللہ تعالیٰ جو زمین و آسمان کامالک اور نیک کاموں کی نیک جزا دیتا ہے وہ آسمان پر سے اس محسنہ قیصرہ ہند دام ملکہا کو ہماری طرف سے نیک جزا دے او ر وہ فضل اُس کے شامل حال کرے جو نہ صرف دنیا تک محدود ہو بلکہ سچی اور دائمی خوشحالی جو
* یہ بات کسی طرح قبول کے لائق نہیں اور اس امر کو کسی دانشمند کاکانشنس قبول نہیں کرے گا کہ خدا تعالیٰ کا تو یہ ارادہ مصمم ہو کہ مسیح کو پھانسی دے مگر اس کا فرشتہ خواہ نخواہ مسیح کے چھڑانے کے لئے تڑپتا پھرے۔ کبھی پلاطوس کے دل میں مسیح کی محبت ڈالے اور اُس کے منہ سے یہ کہلاوے کہ میں یسوع کا کوئی گناہ نہیں دیکھتا اور کبھی پلاطوس کی بیوی کے پاس خواب میں جاوے اور اُس کو کہے کہ اگر یسوع مسیح پھانسی مل گیا تو پھر اس میں تمہاری خیر نہیں ہے یہ کیسی عجیب بات ہے کہ فرشتہ کا خدا سے اختلاف رائے ۔ منہ
* ترجمہ یہ ہے کہ اے میرے خدا۔ اے میرے خدا تو نے کیوں مجھے چھوڑ دیا۔ منہ