اور ایک مدت تک کوہ نعمان میں رہے اور پھر کشمیر میں آئے اور ایک سو ۱۲۰بیس برس کی عمر پاکر سری نگر میں آپ کا انتقال ہوا اور سری نگر محلہ خان یار میں آپ کا مزار ہے چنانچہ اس بارے میں مَیں نے ایک کتاب لکھی ہے جس کا نام ہے مسیح ہندوستان میں یہ ایک بڑی فتح ہے جو مجھے حاصل ہوئی ہے اور میں جانتا ہوں کہ جلد تر یا کچھ دیر سے اس کا یہ نتیجہ ہوگا کہ یہ دو بزرگ قومیں عیسائیوں اور ؔ مسلمانوں کی جو مدّت سے بچھڑی ہوئی ہیں باہم شیروشکر ہو جائیں گی اور بہت سے نزاعوں کو خیرباد کہہ کر محبت اور دوستی سے ایک دوسرے سے ہاتھ ملائیں گی۔ چونکہ آسمان پر یہی ارادہ قرار پایا ہے اس لئے ہماری گورنمنٹ انگریزی کو بھی قوموں کے اتفاق کی طرف بہت توجہ ہوگئی ہے جیسا کہ قانون سڈیشن کے بعض دفعات سے ظاہر ہے ۔ اصل بھید یہ ہے کہ جو کچھ آسمان پر خدا تعالیٰ کی طرف سے ایک تیاری ہوتی ہے زمین پر بھی ویسے ہی خیالات گورنمنٹ کے دل میں پیدا ہو جاتے ہیں۔ غرض ہماری ملکہ معظمہ کی نیک نیتی کی وجہ سے خدا تعالیٰ نے آسمان سے یہ اسباب پیدا کر دیئے ہیں کہ دونوں قوموں عیسائیوں اور مسلمانوں میں وہ اتحاد پیدا ہو جائے کہ پھر ان کو دو۲ قوم نہ کہا جائے۔
اب اس کے بعد مسیح علیہ السلام کی نسبت کوئی عقلمند یہ عقیدہ ہرگز نہیں رکھے گا کہ نعوذ باللہ کسی وقت اُن کا دِل *** کی زہرناک کیفیت سے رنگین ہو گیا تھا کیونکہ *** مصلوب ہونے کا نتیجہ تھا۔ پس جبکہ مصلوب ہونا ثابت نہ ہوا بلکہ یہ ثابت ہوا کہ آپ کی اُن دعاؤں کی برکت سے جو ساری رات باغ میں کی گئی تھیں اور فرشتے کی اُس منشاء کے موافق جو پلاطوس کی بیوی کے خواب میں حضرت مسیح علیہ السلام کے بچاؤ کی سفارش کے لئے