کی عداوت کے گڑھے میں ڈوبنے والا قرار دیا جائے۔ سو میں یہ کوشش کر رہا ہوں کہ مسلمانوں کا وہ عقیدہ اور عیسائیوں کا یہ عقیدہ اصلاح پذیر ہو جائے۔ او ر میں شکر کرتا ہوں کہ خدا تعالیٰ نے مجھے ان دونوں ارادوں میں کامیاب کیا ہے۔ چونکہ میرے ساتھ آسمانی نشان اور خدا کے معجزات تھے اس لئے مسلمانوں کے قائل کرنے کے لئے مجھے بہت تکلیف اُٹھانی نہیں پڑی اور ہزارہا مسلمان خدا کے عجیب اور فوق العادت نشانوں کو دیکھ کر میرے تابع ہوگئے اور وہ خطرناک عقائد انہوں نے چھوڑ دیئے جو وحشیانہ طور پر ان کے دلوں میں تھے اور میرا گروہ ایک سچا خیرخواہ اس گورنمنٹ کا بن گیا ہے جو برٹش انڈیا میں سب سے اوّل درجہ پر جوشِ اطاعت دل میں رکھتے ہیں جس سے مجھے بہت خوشی ہے اور عیسائیوں کا یہ عیب دُور کرنے کے لئے خدا نے میری وہ مدد کی ہے جو میرے پاس الفاظ نہیں کہ میں شکر کرسکوں اور وہ یہ ہے کہ بہت سے قطعی دلائل اور نہایت پختہ وجوہ سے یہ ثابت ہوگیا ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام صلیب پر فوت نہیں ہوئے بلکہ خدا نے اس پاک نبی کو صلیب پر سے بچا لیا اور آپ خدا تعالیٰ کے فضل سے نہ مرکر بلکہ زندہ ہی قبر میں غشی کی حالت میں داخل کئے گئے۔ اور پھر زندہ ہی قبر سے نکلے جیسا کہ آپ نے انجیل میں خود فرمایا تھا کہ میری حالت یونس نبی کی حالت سے مشابہ ہوگی۔ آپ کی انجیل میں الفاظ یہ ہیں کہ یونس نبی کا معجزہ دکھلاؤں گا سو آپ نے یہ معجزہ دکھلایا کہ زندہ ہی قبر میں داخل ہوئے اور زندہ ہی نکلے ۔ یہ وہ باتیں ہیں جو انجیلوں سے ہمیں معلوم ہوتی ہیں لیکن اس کے علاوہ ایک بڑی خوشخبری جو ہمیں ملی ہے وہ یہ ہے کہ دلائل قاطعہ سے ثابت ہوگیا ہے کہ حضرت عیسٰی علیہ السلام کی قبر سری نگر کشمیر میں موجود ہے اور یہ امر ثبوت کو پہنچ گیا ہے کہ آپ یہودیوں کے ملک سے بھاگ کر نصیبین کی راہ سے افغانستان میں آئے