بات پر متفق ہیں کہ ملعون یا *** صرف اُسی حالت میں کسی کو کہا جاتا ہے جبکہ اس کادل درحقیقت خدا سے تمام تعلقات محبت اورمعرفت اور اطاعت کے توڑدے اور شیطان کا ایسا تابع ہو جائے کہ گویا شیطان کا فرزند ہو جائے او ر خدا اس سے بیزار اور وہ خدا سے بیزار ہو جائے اور خدا اس کادشمن اور وہ خدا کا دشمن ہو جائے اسی لئے لعین شیطان کا نام ہے۔ پس وہی نام حضرت مسیح علیہ السلام کے لئے تجویز کرنا اور ان کے پاک اور منوّر دل کو نعوذ باللہ شیطان کے تاریک دل سے مشابہت دینا اوروہ جو بقول ان کے خدا سے نکلا ہے اور وہ جو سراسر نور ہے اور وہ جو آسمان سے ہے اور وہ جو علم کا دروازہ اور خدا شناسی کی راہ اور خدا کا وارث ہے اُسی کی نسبت نعوذ باللہ یہ خیال کرنا کہ وہ *** ہو کر یعنی خدا سے مردود ہوکر اور خدا کا دشمن ہوکر اوردل سیاہ ہوکر اور خدا سے برگشتہ ہو کر او رمعرفت الٰہی سے نابینا ہوکرشیطان کا وارث بن گیا اور اس لقب کا مستحق ہوگیا جو شیطان کے لئے خاص ہے یعنی ***۔ یہ ایک ایسا عقیدہ ہے کہ اس کے سننے سے دِل پاش پاش ہوتا ہے اور بدن پر لرزہ پڑتا ہے۔ کیا خدا کے مسیح کا دِل خدا سے ایسا برگشتہ ہوگیا جیسے شیطان کا دل ؟ کیاخدا کے پاک مسیح پر کوئی ایسا زمانہ آیا جس میں وہ خدا سے بیزار او ردرحقیقت خدا کادشمن ہوگیا۔ یہ بڑی غلطی اور بڑی بے ادبی ہے قریب ہے جو آسمان اس سے ٹکڑے ٹکڑے ہو جائے۔ غرض مسلمانوں کے جہاد کا عقیدہ مخلوق کے حق میں ایک بداندیشی ہے اور عیسائیوں کا یہ عقیدہ خود خدا کے حق میں بداندیشی ہے۔ اگر یہ ممکن ہے کہ نور کے ہوتے ہی اندھیرا ہو جائے تو یہ بھی ممکن ہے کہ نعوذ باللہ کسی وقت مسیح کے دِل نے *** کی زہر ناک کیفیت اپنے اندر حاصل کی تھی۔ اگر انسانوں کی نجات اسی بے ادبی پر موقوف ہے تو بہترؔ ہے کہ کسی کی بھی نجات نہ ہو کیونکہ تمام گنہگاروں کا مرنا بہ نسبت اِس بات کے اچھا ہے کہ مسیح جیسے نور اور نورانی کو گمراہی کی تاریکی اور *** اور خدا