اسلام میں تلوار کا حکم ہوا کیونکہ وہ تلوار دین کو پھیلانے کے لئے نہیں کھینچی گئی تھی بلکہ دشمنوں کے حملوں سے اپنے آپ کو بچانے کیلئے اور یا امن قائم کرنے کے لئے کھینچی گئی تھی مگر دین کے لئے جبر کرنا کبھی مقصد نہ تھا۔ افسوس کہ یہ عیب غلط کار مسلمانوں میں اب تک موجود ہے جس کی اصلاح کے لئے میں نے پچاس ہزار سے کچھ زیادہ اپنے رسالے اور مبسوط کتابیں اور اشتہارات اِس ملک اور غیر ملکوں میں شائع کئے ہیں اور امید رکھتا ہوں کہ جلد تر ایک زمانہ آنے والا ہے کہ اس عیب سے مسلمانوں کا دامن پاک ہو جائے گا۔ دوسرا عیب ہماری قوم مسلمانوں میں یہ بھی ہے کہ وہ ایک ایسے خونی مسیح اور خونی مہدی کے منتظر ہیں جو اُن کے زعم میں دنیا کو خون سے بھردے گا۔ حالانکہ یہ خیال سراسر غلط ہے۔ ہماری معتبرکتابوں میں لکھا ہے کہ مسیح موعود کو ئی لڑائی نہیں کرے گا او ر نہ تلوار اُٹھائے گا بلکہ وہ تمام باتوں میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے خُو اور خُلق پر ہوگا اور ان کے رنگ سے ایسارنگین ہوگا کہ گویا ہُوبہو وہی ہوگا ۔ یہ دو غلطیاں حال کے مسلمانوں میں ہیں جن کی وجہ سے اکثر اُن کے دُوسری قوموں سے بغض رکھتے ہیں مگر مجھےؔ خدا نے اس لئے بھیجا ہے کہ ان غلطیوں کو دُور کردوں اور قاضی یا حَکَم کا لفظ جو مجھے عطاکیا گیا ہے وہ اسی فیصلہ کے لئے ہے۔ اور ان کے مقابل پر ایک غلطی عیسائیوں میں بھی ہے اور وہ یہ ہے کہ وہ مسیح جیسے مقدس اور بزرگوار کی نسبت جس کو انجیل شریف میں نور کہا گیا ہے نعوذ باللہ *** کا لفظ اطلاق کرتے ہیں اور وہ نہیں جانتے کہ لعن اور *** ایک لفظ عبرانی اورعربی میں مشترک ہے جس کے یہ معنی ہیں کہ ملعون انسان کا دل خدا سے بکلّی برگشتہ اور دُور اور مہجور ہوکر ایسا گندہ اور ناپاک ہو جائے جس طرح جذام سے جسم گندہ اور خراب ہو جاتا ہے اور عرب اورعبرانی کے اہل زبان اس