آپ کی محبت اور عظمت ہے ۔ ہماری دن رات کی دعائیں آپ کیلئے آبِ رواں کی طرح جاری ہیں اور ہم نہ سیاست قہری کے نیچے ہوکر آپ کے مطیع ہیں بلکہ آپ کی انواع اقسام کی خوبیوں نے ہمارے دلوں کو اپنی طرف کھینچ لیا ہے ۔اے بابرکت قیصرہ ہند تجھے یہ تیری عظمت اور نیک نامی مبارک ہو۔ خدا کی نگاہیں اُس ملک پر ہیں جس پر تیری نگاہیں ہیں۔ خدا کی رحمت کاہاتھ اُس رعایا پرہے جسؔ پر تیرا ہاتھ ہے ۔ تیری ہی پاک نیتوں کی تحریک سے خدا نے مجھے بھیجا ہے کہ تا پر ہیزگاری اور پاک اخلاق اور صلح کاری کی راہوں کو دوبارہ دنیا میں قائم کروں۔ اے عالی جناب قیصرہ ہند۔ مجھے خدا تعالیٰ کی طرف سے علم دیا گیا ہے کہ ایک عیب مسلمانوں اور ایک عیب عیسائیوں میں ایسا ہے جس سے وہ سچی روحانی زندگی سے دور پڑے ہوئے ہیں اور وہ عیب اُن کو ایک ہونے نہیں دیتا بلکہ ان میں باہمی پھوٹ ڈال رہا ہے اوروہ یہ ہے کہ مسلمانوں میں یہ دو مسئلے نہایت خطرناک اور سراسر غلط ہیں کہ وہ دین کے لئے تلوار کے جہاد کو اپنے مذہب کا ایک رکن سمجھتے ہیں اور اس جنون سے ایک بے گناہ کو قتل کرکے ایسا خیال کرتے ہیں کہ گویا انہوں نے ایک بڑے ثواب کا کام کیا ہے اور گو اس ملک برٹش انڈیا میں یہ عقیدہ اکثر مسلمانوں کا بہت کچھ اصلاح پذیر ہوگیا ہے اور ہزارہا مسلمانوں کے دل میری بائیس۲ ۲ تیئیس۲۳ سال کی کوششوں سے صاف ہوگئے ہیں لیکن اس میں کچھ شک نہیں کہ بعض غیر ممالک میں یہ خیالات اب تک سرگرمی سے پائے جاتے ہیں گو یاان لوگوں نے اسلام کا مغز اور عطر لڑائی اورجبر کو ہی سمجھ لیا ہے۔ لیکن یہ رائے ہرگز صحیح نہیں ہے۔ قرآن میں صاف حکم ہے کہ دین کے پھیلانے کے لئے تلوار مت اُٹھاؤ اور دین کی ذاتی خوبیوں کو پیش کرو اور نیک نمونوں سے اپنی طرف کھینچو اور یہ مت خیال کرو کہ ابتدا میں