مدد دینے کو تیار تھے۔ غرض اس طرح ان کی زندگی گذری ۔ اور پھر اُن کے انتقال کے بعد یہ عاجز دنیا کے شغلوں سے بکلی علیحدہ ہوکر خدا تعالیٰ کی طرف مشغول ہوا اور مجھ سے سرکار انگریزی کے حق میں جو خدمت ہوئی وہ یہ تھی کہ میں نے پچاس ہزار کے قریب کتابیں اور رسائل اور اشتہارات چھپواکر اس ملک اور نیز دوسرے بلاد اسلامیہ میں اِس مضمون کے شائع کئے کہ گورنمنٹ انگریزی ہم مسلمانوں کی محسن ہے لہٰذا ہر ایک مسلمان کا یہ فرض ہونا چاہئے کہ اس گورنمنٹ کی سچی اطاعت کرے اور دل سے اس دولت کا شکر گذار اور دعا گو رہے۔ اور یہ کتابیں میں نے مختلف زبانوں یعنی اردو فارسی۔عربی میں تالیف کرکے اسلام کے تمام ملکوں میں پھیلادیں یہاں تک کہ اسلام کے دو۲ مقدس شہروں مکہ اور مدینہ میں بھی بخوبی شائع کردیں۔ اور روم کے پایہء تخت قسطنطنیہ او ر بلاد شام اور مصر اور کابل اور افغانستان کے متفرق شہروں میں جہاں تک ممکن تھا اشاعت کردی گئی جس کا یہ نتیجہ ہوا کہ لاکھوں انسانوں نے جہاد کے وہ غلط خیالات چھوڑ دیئے جو نافہم ملاؤں کی تعلیم سے اُن کے دِلوں میں تھے۔ یہ ایکؔ ایسی خدمت مجھ سے ظہور میں آئی کہ مجھے اس بات پر فخر ہے کہ برٹش انڈیا کے تمام مسلمانوں میں سے اس کی نظیر کوئی مسلمان دکھلا نہیں سکا اور میں اس قدر خدمت کرکے جو بائیس برس تک کرتا رہا ہوں اس محسن گورنمنٹ پر کچھ احسان نہیں کرتا کیونکہ مجھے اِس بات کا اقرار ہے کہ اس بابرکت گورنمنٹ کے آنے سے ہم نے اور ہمارے بزرگوں نے ایک لوہے کے جلتے ہوئے تنور سے نجات پائی ہے اس لئے میں مع اپنے تمام عزیزوں کے دونوں ہاتھ اُٹھاکر دعا کرتا ہوں کہ یا الٰہی اس مبارکہ قیصرہ ہند دام ملکہا کو دیرگاہ تک ہمارے سروں پر سلامت رکھ اور اس کے ہر ایک قدم کے ساتھ اپنی مدد کا سایہ شامل حال فرما اور اس کے اقبال کے دن بہت لمبے کر۔