میں نے تحفہ قیصریہ میں جو حضور قیصرہ ہند کی خدمت میں بھیجا گیا یہی حالات اورخدمات اور دعوات گذارش کئے تھے اور میں اپنی جناب ملکہ معظمہ کے اخلاق وسیعہ پر نظر رکھ کر ہر روز جواب کا امیدوار تھا اور اب بھی ہوں۔ میرے خیال میں یہ غیر ممکن ہے کہ میرے جیسے دُعا گو کا وہ عاجزانہ تحفہ جو بوجہ کمال اخلاص خون دل سے لکھا گیا تھا اگر وہ حضور ملکہ معظمہ قیصرہ ہند دام اقبالہا کی خدمت میں پیش ہوتا تو اس کاجواب نہ آتا بلکہ ضرور آتا ضرور آتا۔ اِس لئے مجھے بوجہ اس یقین کے کہ جناب قیصرہ ہند کے پُررحمت اخلاق پر کمال وثوق سے حاصل ہے اس یاددہانی کے عریضہ کو لکھنا پڑا اور اس عریضہ کو نہ صرف میرے ہاتھوں نے لکھا ہے بلکہ میرے دل نے یقین کا بھرا ہوا زور ڈال کر ہاتھوں کو اِس پُر ارادت خط کے لکھنے کے لئے چلایا ہے۔ میں دُعا کرتا ہوں کہ خیر اور عافیت اور خوشی کے وقت میں خدا تعالیٰ اس خط کو حضور قیصرہ ہند دام اقبالہا کی خدمت میں پہنچاوے اور پھر جناب ممدوحہ کے دل میں الہام کرے کہ وہ اس سچی محبت اور سچے اخلاص کو جو حضرت موصوفہ کی نسبت میرے دل میں ہے اپنی پاک فراست سے شناخت کرلیں اور رعیّت پروری کے رُو سے مجھے پُر رحمت جواب سے ممنون فرماویں اور میں اپنی عالی شان جناب ملکہ معظمہ قیصرہ ہند کی عالی خدمت میں اس خوشخبری کو پہنچانے کے لئے بھی مامور ہوں کہ جیسا کہ زمین پر اور زمین کے اسباب سے خدا تعالیٰ نے اپنی کمال رحمت اور کمال مصلحت سے ہماری قیصرہ ہند دام اقبالہا کی سلطنت کو اس ملک اور دیگر ممالک میں قائم کیا ہے تاکہ زمین کو عدل اور امن سے بھرے۔ ایسا ہی اس نے آسمان سے ارادہ فرمایا ہے کہ اس شہنشاہ مبارکہ قیصرہ ہند کے دلی مقاصد کو پورا کرنے کے لئے جو عدل اور امن اور آسودگی عامہ خلائق اور رفعؔ فساد اور تہذیب اخلاق اور وحشیانہ حالتوں کا دور کرنا ہے۔