کے زمانہ سے پہلے میرے بزرگ ایک خود مختار ریاست کے والی تھے اور میرے پردادا صاحب مرزا گل محمد اس قدر دانااور مدبر اور عالی ہمت اور نیک مزاج اور ملک داری کی خوبیوں سے موصوف تھے کہ جب دہلی کے چغتائی بادشاہوں کی سلطنت بباعث نالیاقتی اور عیاشی اور سستی اور کم ہمتی کے کمزور ہوگئی تو بعض وزراء اس کوشش میں لگے تھے کہ مرزا صاحب موصوف کو جو تمام شرائط بیدار مغزی اور رعایا پروری کے اپنے اندر رکھتے تھے اورخاندان شاہی میں سے تھے دہلی کے تخت پر بٹھایا جائے لیکن چونکہ چغتائی سلاطین کی قسمت اور عمر کا پیالہ لبریز ہو ؔ چکاتھا۔ اس لئے یہ تجویز عام منظوری میں نہ آئی اور ہم پر سکھوں کے عہد میں بہت سی سختیاں ہوئیں اور ہمارے بزرگ تمام دیہات ریاست سے بے دخل کر دیئے گئے اور ایک ساعت بھی امن کی نہیں گذرتی تھی اور انگریزی سلطنت کے قدم مبارک کے آنے سے پہلے ہی ہماری تمام ریاست خاک میں مل چکی تھی اور صرف پانچ گاؤں باقی رہ گئے تھے اور میرے والد صاحب مرزا غلام مرتضٰی مرحوم جنہوں نے سکھوں کے عہد میں بڑے بڑے صدمات دیکھے تھے۔ انگریزی سلطنت کے آنے کے ایسے منتظر تھے جیسا کہ کوئی سخت پیاسا پانی کا منتظر ہوتا ہے۔ اور پھر جب گورنمنٹ انگریزی کا اس ملک پر دخل ہوگیا، تووہ اس نعمت یعنی انگریزی حکومت کی قائمی سے ایسے خوش ہوئے کہ گویا ان کو ایک جواہرات کا خزانہ مل گیا اور وہ سرکار انگریزی کے بڑے خیر خواہ جان نثار تھے اسی وجہ سے انہوں نے ایّام غدر ۱۸۵۷ء میں پچاس گھوڑے مع سواران بہم پہنچا کر سرکار انگریزی کو بطور مدد دیئے تھے۔ اور وہ بعد اس کے بھی ہمیشہ اس بات کے لئے مستعد رہے کہ اگر پھر بھی کسی وقت ان کی مدد کی ضرورت ہو تو بدل و جان اس گورنمنٹ کو مدد دیں۔ اور اگر ۵۷ء کے غدرکا کچھ اور بھی طول ہوتا تووہ سو۱۰۰ سوار تک اور بھی