اخلاص اور محبت اور جوش اطاعت حضور ملکہ معظمہ اور اس کے معزّز افسروں کی نسبت حاصل ہے جو میں ایسے الفاظ نہیں پاتا جن میں اس اخلاص کا اندازؔ ہ بیان کرسکوں اس سچی محبت اور اخلاص کی تحریک سے جشن شصت سالہ جوبلی کی تقریب پر میں نے ایک رسالہ حضرت قیصرہ ہند دام اقبالہا کے نام سے تالیف کرکے اور اس کا نام تحفہ قیصریہ رکھ کرجناب ممدوحہ کی خدمت میں بطور درویشانہ تحفہ کے ارسال کیا تھا اور مجھے قوی یقین تھا کہ اس کے جواب سے مجھے عزت دی جائے گی اور اُمید سے بڑھ کر میری سرافرازی کا موجب ہوگا۔ اور اس امید اور یقین کا موجب حضور قیصرہ ہند کے وہ اخلاق فاضلہ تھے جن کی تمام ممالک مشرقیہ میں دھوم ہے اور جوجناب ملکہ معظمہ کے وسیع ملک کی طرح وسعت اور کشادگی میں ایسے بے مثل ہیں جو ان کی نظیر دوسری جگہ تلاش کرناخیال محال ہے مگر مجھے نہایت تعجب ہے کہ ایک کلمہ شاہانہ سے بھی میں ممنون نہیں کیا گیا اور میرا کانشنس ہرگز اِس بات کو قبول نہیں کرتاکہ وہ ہدیہ عاجزانہ یعنی رسالہ تحفہ قیصریہ حضور ملکہ معظمہ میں پیش ہوا ہو اور پھر میں اس کے جواب سے ممنون نہ کیا جاؤں۔ یقیناًکوئی اور باعث ہے جس میں جناب ملکہ معظمہ قیصرہ ہند دام اقبالہا کے ارادہ اور مرضی اور علم کو کچھ دخل نہیں۔ لہٰذا اس حسنِ ظن نے جو میں حضور ملکہ معظمہ دام اقبالہا کی خدمت میں رکھتا ہوں۔ دوبارہ مجھے مجبور کیا کہ میں اُس تحفہ یعنی رسالہ تحفہ قیصریہ کی طرف جناب ممدوحہ کو توجہ دلاؤں اور شاہانہ منظوری کے چند الفاظ سے خوشی حاصل کروں۔ اسی غرض سے یہ عریضہ روانہ کرتا ہوں۔ اور میں حضور عالی حضرت جناب قیصرہ ہند دام اقبالہا کی خدمت میں یہ چند الفاظ بیان کرنے کے لئے جرأت کرتا ہوں کہ میں پنجاب کے ایک معزز خاندان مغلیہ میں سے ہوں اور سکھوں