بحضُوؔ ر عالی شان قیصرہ ہند ملکہ معظمہ شہنشاہ ہندوستان و انگلستان ادام اللّٰہ اقبالہا سب سے پہلے یہ دُعا ہے کہ خدائے قادر مطلق اس ہماری عالیجاہ قیصرہ ہند کی عمر میں بہت بہت برکت بخشے اور اقبال اور جاہ و جلال میں ترقی دے اور عزیزوں اور فرزندوں کی عافیت سے آنکھ ٹھنڈی رکھے۔ اس کے بعد اس عریضہ کے لکھنے والا جس کا نام میرزا غلام احمد قادیانی ہے جو پنجاب کے ایک چھوٹے سے گاؤں قادیان نام میں رہتا ہے جو لاہور سے تخمیناً بفاصلہ ستر۷۰ میل مشرق اور شمال کے گوشہ میں واقع اور گورداسپورہ کے ضلع میں ہے یہ عرض کرتاہے کہ اگرچہ اِس ملک کے عموماً تمام رہنے والوں کو بوجہ اُن آراموں کے جو حضور قیصرہ ہند کے عدل عام اور رعایا پروری اور دادگستری سے حاصل ہو رہے ہیں اور بوجہ اُن تدابیر امن عامہ اور تجاویز آسائش جمیع طبقات رعایا کے جو کروڑہا روپیہ کے خرچ اور بے انتہا فیاضی سے ظہور میں آئی ہیں۔ جناب ملکہ معظمہ دام اقبالہا سے بقدر اپنی فہم اور عقل اور شناخت احسان کے درجہ بدرجہ محبت اور دلی اطاعت ہے بجز بعض قلیل الوجود افراد کے جو میں گمان کرتا ہوں کہ درپردہ کچھ ایسے بھی ہیں جو وحشیوں اور درندوں کی طرح بسر کرتے ہیں لیکن اس عاجز کو بوجہ اُس معرفت اور علم کے جو اس گورنمنٹ عالیہ کے حقوق کی نسبت مجھے حاصل ہے جس کو میں اپنے رسالہ تحفہ قیصریہ میں مفصل لکھ چکا ہوں وہ اعلیٰ درجہ کا