کہؔ کسی طرح یہلوگ جلد نابود ہوجائیں اور یا ایسے منتشر ہوں کہ ان کی ترقی کا کوئی اندیشہ باقی نہ رہے اس وجہ سے بات بات میں ان کی طرف سے مزاحمت تھی اور ہر ایک قوم میں سے جو شخص مسلمان ہوجاتا تھا وہ قوم کے ہاتھ سے یا تو فی الفور مارا جاتا اور یا اس کی زندگی سخت خطرہ میں رہتی تھی تو ایسے وقت میں خداتعالیٰ نے نومسلم لوگوں پر رحم کرکے ایسی متعصب طاقتوں پر یہ تعزیر لگا دی تھی کہ وہ اسلام کے خراج دہ ہوجائیں اور اس طرح اسلام کے لئے آزادی کے دروازے کھول دیں اور اس سے مطلب یہ تھا کہ تا ایمان لانے والوں کی راہ سے روکیں دور ہوجائیں اور یہ دنیا پر خدا کا رحم تھا اور اس میں کسی کا حرج نہ تھا۔ مگر ظاہر ہے کہ اس وقت کے غیر قوم کے بادشاہ اسلام کی مذہبی آزادی کو نہیں روکتے، اسلامی فرائض کو بند نہیں کرتے اور اپنی قوم کے مسلمان ہونے والوں کو قتل نہیں کرتے، ان کو قید خانوں میں نہیں ڈالتے ان کو طرح طرح کے دکھ نہیں دیتے تو پھر کیوں اسلام ان کے مقابل پر تلوار اٹھا وے۔ اور یہ ظاہر ہے کہ اسلام نے کبھی جبر کا مسئلہ نہیں سکھایا۔ اگر قرآن شریف اور تمام حدیث کی کتابوں اور تاریخ کی کتابوں کو غور سے دیکھا جائے اور جہاں تک انسان کے لئے ممکن ہے تدبر سے پڑھا یا سنا جائے تو اس قدر وسعت معلومات کے بعد قطعی یقین کے ساتھ معلوم ہوگا کہ یہ اعتراض کہ گویا اسلام نے دین کو جبرًا پھیلانے کے لئے تلوار اٹھائی ہے نہایت بے بنیاد اور قابلِ شرم الزام ہے اور یہ ان لوگوں کا خیال ہے جنہوں نے تعصب سے الگ ہوکر قرآن اور حدیث اور اسلام کی معتبر تاریخوں کو نہیں دیکھا بلکہ جھوٹ اور بہتان لگانے سے پورا پورا کام لیا ہے۔ مگر میں جانتا ہوں کہ اب وہ زمانہ قریب آتا جاتا ہے کہ راستی کے بھوکے اور پیاسے ان بہتانوں کی حقیقت پر مطلع ہوجائیں گے۔ کیا اس مذہب کو ہم جبر کا مذہب کہہ سکتے ہیں جس کی کتاب قرآن میں صاف طور پر یہ ہدایت ہے کہ3 ۱ یعنی دین میں داخل کرنے کے لئے جبر جائز نہیں۔ کیا ہم اس بزرگ نبی کو جبر کا الزام دے سکتے ہیں جس نے مکہ معظمہ کے تیرہ برس میں اپنے تمام دوستوں کو دن رات یہی نصیحت دی کہ شر کا مقابلہ مت کرو اور صبر کرتے رہو۔ ہاں جب دشمنوں کی بدی حد سے گذر گئی اور دین اسلام کے مٹادینے کے لئے تمام قوموں نے