کوشش ؔ کی تو اس وقت غیرتِ الٰہی نے تقاضا کیا کہ جو لوگ تلوار اٹھاتے ہیں وہ تلوار ہی سے قتل کئے جائیں۔ ورنہ قرآن شریف نے ہرگز جبر کی تعلیم نہیں دی۔ اگر جبر کی تعلیم ہوتی تو ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب جبر کی تعلیم کی وجہ سے اس لائق نہ ہوتے کہ امتحانوں کے موقع پر سچے ایمانداروں کی طرح صدق دکھلا سکتے۔ لیکن ہمارے سید و مولیٰ نبی صلی اللہ کے صحابہ کی وفاداری ایک ایسا امر ہے کہ اس کے اظہار کی ہمیں ضرورت نہیں۔ یہ بات کسی پر پوشیدہ نہیں کہ ان سے صدق اور وفاداری کے نمونے اس درجہ پر ظہور میں آئے کہ دوسری قوموں میں ان کی نظیر ملنا مشکل ہے۔ اس وفادار قوم نے تلواروں کے نیچے بھی اپنی وفاداری اور صدق کو نہیں چھوڑا بلکہ اپنے بزرگ اور پاک نبی کی رفاقت میں وہ صدق دکھلایا کہ کبھی انسان میں وہ صدق نہیں آسکتا جب تک ایمان سے اس کا دل اور سینہ منور نہ ہو۔ غرض اسلام میں جبر کو دخل نہیں۔ اسلام کی لڑائیاں تین قسم سے باہر نہیں(۱)دفاعی طور پر یعنی بطریق حفاظت خوداختیاری۔ (۲) بطور سزا یعنی خون کے عوض میں خون۔ (۳) بطور آزادی قائم کرنے کے یعنی بغرض مزاحموں کی قوت توڑنے کے جو مسلمان ہونے پر قتل کرتے تھے۔ پس جس حالت میں اسلام میں یہ ہدایت ہی نہیں کہ کسی شخص کو جبر اور قتل کی دھمکی سے دین میں داخل کیا جائے تو پھر کسی خونی مہدی یا خونی مسیح کی انتظار کرنا سراسر لغو اور بیہودہ ہے۔ کیونکہ ممکن نہیں کہ قرآنی تعلیم کے برخلاف کوئی ایسا انسان بھی دنیا میں آوے جو تلوار کے ساتھ لوگوں کو مسلمان کرے۔ یہ بات ایسی نہ تھی کہ سمجھ نہ آسکتی یا اس کے سمجھنے میں کچھ مشکلات ہوتیں۔ لیکن نادان لوگوں کو نفسانی طمع نے اس عقیدہ کی طرف جھکایا ہے کیونکہ ہمارے اکثر مولویوں کو یہ دھوکا لگا ہوا ہے کہ وہ خیال کرتے ہیں کہ مہدی کی لڑائیوں کے ذریعہ سے بہت سا مال ان کو ملے گا یہاں تک کہ وہ سنبھال نہیں سکیں گے اور چونکہ آج کل اس ملک کے اکثر مولوی بہت تنگ دست ہیں اس وجہ سے بھی وہ ایسے مہدی کے دن رات منتظر ہیں کہ تا شاید اسی ذریعہ سے ان کی نفسانی حاجتیں پوری ہوں لہٰذا جو شخص ایسے مہدی کے آنے سے انکار کرے