نبی ؔ صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ معظمہ میں اور پھر بعد اس کے بھی کفار کے ہاتھ سے دکھ اٹھایا اور بالخصوص مکہ کے تیرہ برس اس مصیبت اور طرح طرح کے ظلم اٹھانے میں گذرے کہ جس کے تصور سے بھی رونا آتا ہے لیکن آپ نے اس وقت تک دشمنوں کے مقابل پر تلوار نہ اٹھائی اور نہ ان کے سخت کلمات کا سخت جواب دیا جب تک کہ بہت سے صحابہ اور آپ کے عزیز دوست بڑی بے رحمی سے قتل کئے گئے اور طرح طرح سے آپ کو بھی جسمانی دکھ دیا گیا اور کئی دفعہ زہر بھی دی گئی۔ اور کئی قسم کی تجویزیں قتل کرنے کی کی گئیں جن میں مخالفوں کو ناکامی رہی جب خدا کے انتقام کا وقت آیا تو ایسا ہوا کہ مکہ کے تمام رئیسوں اور قوم کے سربرآوردہ لوگوں نے اتفاق کر کے یہ فیصلہ کیا کہ بہر حال اس شخص کو قتل کردینا چاہئیے۔ اس وقت خدا نے جو اپنے پیاروں اور صدیقوں اور راستبازوں کا حامی ہوتا ہے آپ کو خبر دے دی کہ اس شہر میں اب بجز بدی کے کچھ نہیں اور قتل پر کمربستہ ہیں یہاں سے جلد بھاگ جاؤ تب آپ بحکم الٰہی مدینہ کی طرف ہجرت کر گئے۔ مگر پھر بھی مخالفوں نے پیچھا نہ چھوڑا بلکہ تعاقب کیا۔ اور بہرحال اسلام کو پامال کرنا چاہا۔ جب اس حد تک ان لوگوں کی شورہ پشتی بڑھ گئی اور کئی بے گناہوں کے قتل کرنے کے جرم نے بھی ان کو سزا کے لائق بنایا تب ان کے ساتھ لڑنے کے لئے بطور مدافعت اور حفاظت خود اختیاری اجازت دی گئی اور نیز وہ لوگ بہت سے بے گناہ مقتولوں کے عوض میں جن کو انہوں نے بغیر کسی معرکہ جنگ کے محض شرارت سے قتل کیا تھا اور ان کے مالوں پر قبضہ کیا تھا اس لائق ہو گئے تھے کہ اسی طرح ان کے ساتھ اور ان کے معاونوں کے ساتھ معاملہ کیا جاتا۔ مگر مکہ کی فتح کے وقت ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سب کو بخش دیا لہٰذا یہ خیال کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم یا آپ کے صحابہ نے کبھی دین پھیلانے کے لئے لڑائی کی تھی یا کسی کو جبرًااسلام میں داخل کیا تھا سخت غلطی اور ظلم ہے۔
یہ بات بھی یاد رکھنے کے قابل ہے کہ چونکہ اس زمانہ میں ہر ایک قوم کا اسلام کے ساتھ تعصب بڑھا ہوا تھا اور مخالف لوگ اس کو ایک فرقہ جدیدہ اور جماعت قلیلہ
سمجھ کر اس کے نیست و نابود کرنے کی تدبیروں میں لگے ہوئے تھے اور ہر ایک اس فکر میں تھا