سے ؔ جاری ہوتی ہے جس کو حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) نے پٹھان کے نام سے موسوم کیا۔ جس کے معنی سریانی زبان میں سُکّان کے ہیں کیونکہ اس نے لوگوں کو اسلام کی لہروں میں (کشتی کی طرح) چلانا تھا۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اگر ہم قوم افغان کا قوم اسرائیل سے کوئی قدیمی رشتہ نہ مانیں تو ان اسرائیلی ناموں کی کوئی وجہ بیان کرنا ہمارے لئے مشکل ہوجاتا ہے جو عام طور پر رائج ہیں۔ اور بعض رسوم مثلاً عید فصح کے تہوارکے رائج ہونے کی وجہ بیان کرنا اور بھی ہمارے لئے دشوار ہوجاتا ہے۔ اور قوم افغان کی یوسف زئی شاخ اگر عید فصح کی حقیقت کو سمجھ کر نہیں مناتے تو کم سے کم ان کا تہوار عید فصح کی نہایت عجیب اور عمدہ نقل ہے۔ ایسا ہی اسرائیلی رشتہ نہ ماننے کی حالت میں ہم اس اصرار کی بھی کوئی وجہ نہیں بتلا سکتے جو اعلیٰ تعلیم یافتہ افغانوں کو اس روایت کے بیان کرنے اور اس پر قائم رہنے میں ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس روایت کی صداقت کی کوئی اصلی بنیاد ضرور ہوگی۔ بلیو( BELLEW )کی رائے ہے کہ اسرائیلی رشتہ کا درحقیقت سچا ہونا ممکن ہے مگر وہ بیان کرتا ہے کہ افغانوں کی تین بڑی شاخوں میں سے جو اپنے تئیں قیس کی اولاد بیان کرتے ہیں کم سے کم ایک شاخ سارابورکے نام سے موسوم ہے اور یہ لفظ پشتو زبان میں اس نام کا ترجمہ ہے جو پرانے زمانے میں سورج بنسی راجپوتوں کا نام تھا جن کی نسبت یہ معلوم ہے کہ ان کی بستیاں مہا بھارت کی لڑائی میں چندر بنسی خاندان سے شکست کھا کر افغانستان میں آبسی تھیں۔ اس طرح معلوم ہوا کہ ممکن ہے کہ افغان بنی اسرائیل ہوں جو قدیمی راجپوتوں میں مل گئے ہوں اور ہمیشہ سے میری نظر میں افغانوں کے اصل و نسل کے مسئلہ کا صحیح حل نہایت ہی اغلب طور پر یہی معلوم ہوتا رہا ہے ۔ بہرنمط آج کل کے افغان روایت و تامل کی بنا پر اپنے تئیں برگزیدہ قوم یعنی ابراہیم کی اولاد میں سے شمار کرتے ہیں۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ان تمام تحریرات کو جو نامی مؤلفوں کی کتابوں میں سے ہم نے لکھی ہیں یکجائی