طبعیؔ انسان کے موسم سرما کے جلسہ میں ابھی سنایا جانا ہے۔ ہم وہ مکمل مضمون ذیل میں درج کرتے ہیں۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہندوستان کی مغربی سرحد کے پٹھان یا پکٹان باشندوں کا حال قدیمی تاریخوں میں موجود ہے اور بہت سے فرقوں کا ذکر ہیرو ڈوٹس نے اور سکندر اعظم کے تاریخ نویسوں نے کیا ہے ۔وسطی زمانہ میں اس پہاڑ کا غیر آباد اور ویرانہ کا نام روہ تھا۔ اور اس علاقہ کے باشندوں کا نام رہیلہ تھا اور اس میں شک نہیں کہ یہ رہیلے یا پٹھان قوم افغانان کے نام و نشان سے پہلے ان علاقوں میں آباد تھے۔ اب سارے افغان پٹھانوں میں شمار کئے جاتے ہیں کیونکہ وہ پٹھانی زبان یعنی پشتو بولتے ہیں۔ لیکن وہ ان سے کسی رشتہ کا اقرار نہیں کرتے۔ اور ان کا دعویٰ ہے کہ ہم بنی اسرائیل ہیں یعنی ان فرقوں کی اولاد ہیں جن کو بخت نصر قید کر کے بابل لے گیا تھا۔ مگر سب نے پشتو زبان کو اختیار کر لیا ہے۔ اور سب اسی مجموعہ قوانین ملکی کو مانتے ہیں جس کا نام پکتان والی ہے اور جس کے بہت سے قواعد پرانی موسوی شریعت سے عجیب طور پر مشابہت رکھتے ہیں اور بعض اقوام راجپوت کے پرانے رسم و رواج سے بھی ملتے جلتے ہیں۔ ۔۔۔ اگر ہم اسرائیلی آثار کو زیر نظر رکھ کر دیکھیں تو ظاہر ہوگا کہ پٹھانوں کی قومیں دو بڑے حصوں میں منقسم ہو سکتی ہیں۔ ۔۔۔ یعنی اول وہ فرقے ہندی الاصل ہیں جیسے وزیری، آفریدی، اورک زئی وغیرہ۔ دوسرے افغان جو سامی (SEMITIC ) ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں اور سرحد پر زیادہ آبادی انہی کی ہے۔ اور کم سے کم یہ ممکن ہے کہ پکٹان والی جو ایک غیر مکتوب ضابطہ قواعد ملکی ہے۔ سب کا مل کرتیار ہوا ہے اس میں ہم دیکھتے ہیں کہ موسوی احکام راجپوتی رسوم سے ملے ہوئے ہیں جن کی ترمیم اسلامی رسوم نے کی ہے۔ وہ افغان جو اپنے تئیں درّانی کہلاتے ہیں اور جب سے کہ درّانی سلطنت کی بنیاد پڑی ہے یعنی ۱۵۰ سال سے اپنے تئیں درّانی ہی نامزد کرتے آئے ہیں کہتے ہیں کہ وہ اصلاً اسرائیلی فرقوں کی اولاد سے ہیں اور ان کی نسل کش (قیس)