طور ؔ پر تصور میں لانے سے ایک صادق کو یقین کامل ہو سکتا ہے کہ یہ قومیں جو افغان اور کشمیری اس ملک ہندوستان اور اس کے حدود اور نواح میں پائی جاتی ہیں دراصل بنی اسرائیل ہیں۔ اور ہم اس کتاب کے دوسرے حصہ میں انشاء اللہ زیادہ تر تفصیل سے اس بات کو ثابت کریں گے کہ حضرت مسیح علیہ السلام کے اس سفر دور دراز یعنی ہندوستان کے سفر کی علّت غائی یہی تھی کہ تا وہ اس فرض سے سبکدوش ہو جائیں جو تمام اسرائیلی قوموں کو تبلیغ کا فرض ان کے ذمہ تھا جیسا کہ وہ انجیل میں اس بات کی طرف اشارہ بھی کرچکے ہیں۔پس اس حالت میں یہ تعجب کی بات نہیں ہے کہ وہ ہندوستان اور کشمیر میں آئے ہوں۔ بلکہ تعجب اس بات میں ہے کہ بغیر ادا کرنے اپنے فرض منصبی کے وہ آسمان پر جا بیٹھے ہوں۔ اب ہم اس حصہ کو ختم کرتے ہیں۔ وَالسّلام علٰی مَنِ اتَّبع الھُدیٰ المؤلف خاکسار میرزا غلام احمدؐ مسیح موعود از قادیان ضلع گورداسپور