سےؔ حیرت انگیز طور پر مشابہت رکھتے ہیں اور اس بات کو ان محققوں نے بھی تسلیم کر لیا ہے جو افغانوں کے دعوائے یہودی الاصل ہونے پر کچھ التفات نہیں کرتے۔ اور یہی ایک ثبوت ہے جو اُن کے یہودی الاصل ہونے کے بارے میں مل سکتا ہے۔ سرجان ملکم کے الفاظ اس بارے میں یہ ہیں:۔ ’’اگرچہ افغانوں کا (یہودیوں کی) معزز نسل سے ہونے کا دعویٰ بہت مشتبہ ہے۔ لیکن ان کی شکل و ظاہری خط و خال اور ان کے اکثر رسوم سے یہ امر صاف ظاہر ہے کہ وہ (افغان) فارسیوں، تاتاریوں اور ہندیوں سے ایک جدا قوم ہے اور معلوم ہوتا ہے کہ صرف یہی بات اس بیان کو معتبر ٹھہراتی ہے جس کی مخالفت بہت سے قوی واقعات کرتے ہیں اور جس کا کوئی صاف ثبوت نہیں ملتا۔ اگر ایک قوم کی دوسری قوم کے ساتھ شکل و وضع میں مشابہت رکھنے سے کوئی نتیجہ نکل سکتا ہے تو کشمیری اپنے یہودیوں والے خط و خال کی وجہ سے یقیناً یقیناً یہودی الاصل ثابت ہوں گے اور اس بات کا صرف برنیر نے ہی نہیں بلکہ فارسٹر اور شاید دیگر محققوں نے ذکر کیا ہے‘‘۔ ............اگرچہ فارسٹر برنیر کی رائے کو تسلیم نہیں کرتا تاہم وہ اقرار کرتا ہے کہ جب وہ کشمیریوں میں تھا تو اس نے خیال کیا کہ وہ ایک یہودیوں کی قوم کے درمیان رہتا ہے۔
اور کتاب ڈکشنری آف جیوگرافی مرتبہ اے کے جانسٹن کے صفحہ ۲۵۰ میں کشمیر کے لفظ کے بیان میں یہ عبارت ہے:۔ یہاں کے باشندے دراز قد، قوی ہیکل، مردانہ شباہت والے، عورتیں مکمل اندام والیں، خوبصورت، بلندخمداربینی والے ،شکل و وضع میں بالکل یہودیوں کے مشابہ ہیں۔
اور سول اینڈ ملٹری گزٹ (مطبوعہ ۲۳؍ نومبر۱۸۹۸ ء صفحہ۴)میں بعنوان مضمون سواتی اور آفریدی (اقوام) لکھا ہے کہ ہمیں ایک اعلیٰ درجہ کا قیمتی اور دلچسپ مضمون ملا ہے جو برٹش ایسوسی ایشن کے ایک حال کے جلسہ میں ایسوسی ایشن مذکورہ کی شاخ متعلقہ تاریخ طبعی نوع انسان میں پیش کیا گیا ہے اور جو کمیٹی تحقیقات تاریخ