غورؔ میں چلا گیا اور یہاں ان کی اولاد رہ پڑی۔ دن بدن ان کی تعداد بڑھتی گئی اور لوگوں نے ان کو بنی اسرائیل بنی آصف اور بنی افغان کے ناموں سے موسوم کیا۔ صفحہ ۶۴ میں مصنف مذکور کا قول ہے کہ معتبر کتب مثلاً تاریخ افغانی، تاریخ غوری وغیرہ میں یہ دعویٰ درج ہے’’ افغان بہت زیادہ حصہ تو بنی اسرائیل ہیں اور کچھ حصہ قبطی‘‘۔ نیز ابوالفضل کا بیان ہے کہ بعض افغان اپنے آپ کو مصری الاصل سمجھتے ہیں اور یہ وجہ پیش کرتے ہیں کہ جب بنی اسرائیل یروشلم سے مصر واپس گئے۔ اس فرقہ (یعنی افغان) نے ہندوستان کو نقل مقام کیا۔ اور صفحہ ۶۴ میں فرید الدین احمد افغان کے نام کی بابت یہ لکھتا ہے :۔ افغان نام کی نسبت بعض نے یہ لکھا ہے کہ (شام سے) جلا وطنی کے بعد جب وہ ہروقت اپنے وطن مالوف کا دل میں خیال لاتے تھے تو آہ و فغان کرتے تھے لہٰذا ان کا نام افغان ہوا اور یہی رائے سر جان ملکم کی ہے دیکھو ہسٹری آف پرشیا جلد۱ صفحہ ۱۰۱۔ اور صفحہ ۶۳ میں مہابت خان کا بیان ہے کہ ’’چوں ایشاں از توابع و لواحق سلیمان علیہ السلام اند بنا براں ایشاں را مردم عرب سلیمانی گویند‘‘۔ اور صفحہ ۶۵ میں لکھا ہے تقریباً تمام مشرقی موء رخوں کی یہی تحقیقات ہے کہ افغان قوم کا اپنا یہی اعتقاد ہے کہ وہ یہودی الاصل ہیں۔ اور اس رائے کو زمانہ حال کے بعض موء رخوں نے بھی اختیار کیا ہے یا غالباً صحیح سمجھا ہے.............اوریہ رواج کہ افغان یہودیوں کے نام اپنے نام رکھتے ہیں بیشک افغانوں کے مسلمان ہوجانے کی وجہ سے ہے (لیکن مترجم برنہارڈ دورن کا یہ خیال کوئی ثبوت نہیں رکھتا۔ پنجاب کے شمال و مغربی حصہ میں اکثر ایسی قومیں ہندی الاصل آباد ہیں جو آباد ہو گئی ہیں لیکن ان کے نام یہودی ناموں کی طرز پر ہرگز نہیں۔ جس سے صاف طور پر معلوم ہوتا ہے کہ مسلمان ہو جانے سے ایک قوم میں یہودی نام داخل نہیں ہوجاتے) ’’افغان کے خط و خال یہودیوں