وکنت أعلم أن العلماء یُکذّبوننی ویجعلوننی عرضًا
للسہام، ویقولون أنہ شقّ العصا وخرج من إجماع أئمۃ الإسلام، فواللّٰہ ما خشیتہم وما سترت أمرًا أُوحی إلیَّ من اللّٰہ العلاّم، وأی ذنب أکبر من ان یُکْتَم الحق من خوف الأنام، وما وردت ہذا المورد من غیر الأمر والإعلام، وما کان لی أن أستقیل من ہذا المقام۔ وما جِءْتُ کطارق إذا عری، بل جئت کبدرٍ طلع فی أُمِّ القریٰ، وعندی شہادات لمن یریٰ، وآیات لقلب وعیٰ۔ وقد
اور میں جانتا تھا کہ علماء میری تکذیب کریں گے اور مجھے اپنے تیروں کا نشانہ بنائیں گے اور کہیں گے کہ اس نے اجماع کو توڑا اور عقیدہ اجماعی سے خارج ہو گیا ۔ پس بخدا میں ان سے نہیں ڈرا اور کسی امر کو جو خدا تعالیٰ کی طرف سے مجھے الہام ہو ا پوشیدہ نہیں رکھا اور اس سے بڑھ کر اور کون سا گناہ ہو گا جو خلقت سے ڈر کر حق کو چھپایا جائے اور میں نے اس جگہ بغیر اعلامِ الٰہی کے قدم نہیں رکھااور میرا یہ بھی اختیار نہ تھا کہ میں اس مقام سے معافی چاہتا اور میں ایسا نہیں آیاجیسا کہ یونہی ایک ناخواندہ مہمان رات کو آجاتا ہے بلکہ میں اس چاند کی طرح نکلا جس نے مکہ معظمہ میں طلوع کیا اور میرے پاس دیکھنے والوں کے لئے گواہیاں ہیں اور اس دل کے لئے جو یاد رکھنے والا ہو نشان ہیں۔
من نیک می دانستم کہ علماء در د نبال تکذیب من بودہ۔ مرا ہدف تیر ہائے خود خواہند ساخت و خواہند گفت کہ این کس خلاف اجماع کرد و از عقیدۂ اجماعی خروج نمود۔ بخد اا زاناں نترسیدم وامرے را از امور ملہمات نپوشیدم و خود گناہے بزرگتر ازین چہ باشد کہ از بیم خلائق پردہ بر حق انداختہ شود۔ و من در اینجابے اجازہ خدا پا ننہا دہ ام۔ و مرا زیبا نبود کہ ازین مقام پوزش میکردم۔ من زنہار چوں مہمان ناخواندہ در ہنگام شب نیامدہ ام۔ من چوں بدرے آمدہ ام کہ در مکہ مکرمہ طلوع فرمود۔ جہت کسے کہ بہ بیند گواہی ہا دارم و برائے دلے کہ حق را ضائع نمے کند نشانہا در دست من است۔ زمانہ