مہجتی ولمعت محجتی۔ وأُعطیتُ بصائر من اللّٰہ المنّان، وغُذّیتُ بلبان السکینۃ والاطمینان، ودُرِءَ عن نفسی کل شبہۃ، ونُوّرتُ من أیدی الحضرۃ بأشعۃ مومضۃ۔ ووضح لی بصدق العلامات، وتلالأ الآیات، وشہادۃ صحف رب السماوات، وخبر سید الکائنات أننی أنا المسیح الموعود، وأنہ تمت بی المواعید والعہود۔ وإنّ اللّٰہ فعل ما شاء ولہ التخیّر فی کل ما أحسن فی زعمکم أو أساء۔ یُلقی الروح علی من یشاء ، ولا یُسأل عما یفعل وہو مالک السماوات والأرضین میری جان مطمئن ہو گئی اور میری راہ روشن ہوگئی اور کئی قسم کے روشن نشان مجھ کو دئیے گئے اور اطمینان اور سکینت کا دودھ مجھے پلایا گیا اور میرے نفس سے ہر ایک قسم کا شبہ دور کیا گیا اور میں خدا تعالیٰ کے ہاتھ سے روشن شعاعوں کے ساتھ منور کیا گیا اور علامات صادقہ اور روشن نشانوں اور کتا ب اللہ اور حدیث سے میرے پر کھل گیا کہ میں مسیح موعود ہوں اور یہ کہ میرے ظہور کے ساتھ عہد اور وعدے پورے ہو گئے اور خدا تعالیٰ جو چاہتا ہے کرتا ہے ۔ ہر ایک امر میں اس کا اختیار ہے ۔ جس پر چاہتا ہے روح ڈالتا ہے اور وہ اپنے کاموں سے پوچھا نہیں جاتا اور زمین اور آسمان کا وہی مالک ہے ۔ وراہم آشکار گردید و چندیں نشانہائے روشن برمن ارزانی شد ند۔ و شیر سکینت مرا نو شا نیدہ شد و ہر گونہ شبہتے از روانم دور کردہ شد و خود دست خدا با شعاعہائے روشن مرا منور فرمود۔ و از علامات صادقہ و نشانہائے درخشاں و کتاب اللہ و حدیث برمن کشودند کہ من بلاشبہ مسیح موعود می ہستم و ظہور من موجب اتمام ہمہ عہد ہا ووعدہ ہا گشت۔ خدا ہر چہ خواہد کند واودر ہر امر اختیارکلی دارد گو آں امر بگمان شما بد باشد یا نیک۔ بر ہر کہ خواہد القائے رُوح کند۔ ہیچ کس را نمی رسد کہ اورابر کار ہائے او سبحانہ باز پرس کند کہ مالک زمین و آسمان ہمان است۔