شہد الزمان أن الأوان ہو ہذا الآوان، بما ظہرت الصلبان
وزادت الغوایۃ والطغیان، وتری القسوس* کیف ہوّلوا النفوس،
* انا ذکرنا غیر مرۃ کید القسوس وما نعلم کیف یکون اثرہ علی النفوس۔ فاعلموا انا لانرید بھٰذہ الکلمات۔ ان یدفع سیئاتھم بالسیئات۔ بل الواجب علی المؤمنین ان یصبروا علٰی ایذاءھم۔ ویدفعوا بالحسنۃ سیئاتھم۔ الذی نشأت من اھواءھم۔ ولاینظروا الٰی سبّھم وازدراءھم۔ فان اللّٰہ تبارک وتعالٰی اوصی لنا بالصبر فی القراٰن۔ و قال تسمعون اذی کثیرا منھم والصبر خیر فی ذالک الاٰوان۔ فمن لم یصبر فلیس لہ حظ من الایمان۔ فاصبروا علٰی ایذاء القسوس واتّقوا۔واذا شتموا فلا تشتموا۔
۱ور زمانہ نے اپنی حالت موجودہ کے ساتھ گواہی دے دی ہے کہ وقت یہی وقت ہے کیونکہ صلیب غالب ہو گیا اور گمراہی زیادہ ہو گئی اور تو پادریوں* کو دیکھتا ہے کہ کیونکر اُن کی سخت کوشش
* ہم نے بارہا پادریوں کے مکر کا ذکر کیا ہے اور ہمیں معلوم نہیں کہ دلوں پر اس کا کیا ا ثر ہو گا ۔ پس یاد رکھو کہ ہمارا ان کلمات سے یہ مطلب نہیں کہ بدی کا بدلہ بدی کے ساتھ لیا جاوے بلکہ مسلمانوں پر واجب ہے کہ ان کے ایذا پر صبر کریں اور بدی کا نیکی کے ساتھ معاوضہ دیں کیونکہ خدا تعالیٰ نے ہمیں صبر کے لئے حکم فرمایا ہے اور فرمایا کہ جب تم اہل کتاب سے دکھ دیئے جاؤ تو صبر کرو ۔ پس جو شخص صبر نہ کرے اس کو ایمان سے بہرہ نہیں ہے ۔ سو تم صبر کرو اور مقابلہ سے بچو ۔ جب گالیاں سنو تو گا لی مت دو
از حالت موجودہ گواہی دہد کہ وقت ہمیں وقت است چہ صلیب چیرہ گر دید و گمرہی ہر چہار سو را فر اگرفت۔ و می بینی کشیشان* را
* مکرراًدربارہ مکر کشیشان ذکرے درمیان آوردیم و نمی دانیم کہ دلہا از ایں چہ اثر بپذیر ند۔ آگاہ باشید کہ ما ہرگز ارادہ نداریم کہ پاداش بدی با بدی کردہ شود بلکہ مومنان را لازم است کہ برایذائے انہا صبر بور زند و بدی را کہ نتیجۂ ہوائے انہا ست با نیکی دفع بکنند و دشنایم و استحقار آنان را بچشم اغماض بہ بینند زیرا کہ خدا وند بزرگ مارا در قرآن کریم برائے صبر امر فرمودہ و گفتہ کہ از و شاں گفتار ہائے بد بسیار خواہید شنید وشکیبائی دراں روز گار بہتر خواہد بود۔ لہٰذا ہر کہ شکیب نگزیند او از اہل ایمان نیست۔ پس باید کہ بر ایذائے کشیشاں صبر بور زید و ا زہمچو مقابلہ بتر سید۔و چوں دشنام دہند دشنام مدہید۔