وقوّانی بخوارق وکُشُفٍ کالبدر التام۔ ووہب لی علم دقائق القرآن، وعلم أحادیث رسولہ وما بلّغ من أحکام الرحمٰن، وفہّمنی أنہ ما قدّم وما أخّر وعدہ من الآوان، بل أنزل أمرہ علی رأس الوقت والزمان۔ ومع ذالک کنت ما یسرنی قلیل من الآیات والعلامات، بل کنت استقل الکثیر لفرط اللّہج والرغبۃ فی البیّنات من الشہادات، وکنت ما أرضی من الاستیفاء باللفاء ، وما أقنع من شمس الہجر بأقل الضیاء۔بل کنت أجتنب منہلًا کدُر ماؤہ وما کمل صفاؤہ، فتوالت آیات ربی لتسلیتی حتی اطمأنت
اور خوارق اور کشف روشن کے ساتھ مجھے قوی کیا اور مجھے دقائق قرآن شریف کا علم عطا فرمایا اور ایسا ہی علم احادیث کا عطا کیا اور مجھے سمجھایا کہ اُس نے اپنے وعدہ کو مقدم یا مؤخر نہیں کیا بلکہ اپنے امر کو عین وقت پر نازل فرمایا۔ اور باوجود اس کے میں اس بات پر راضی نہیں ہوتا تھا کہ تھوڑے سے نشانوں اور علامتوں پر صبر کروں بلکہ بباعث رغبت شہادتوں اور ثبوتوں کے بہت کو تھوڑا جانتا تھا اور تھوڑی چیز اور تھوڑی روشنی پر قناعت نہیں کرتا تھا بلکہ میں ایسے چشمے سے دور رہتا تھا جس کا پانی مکدر ہو اور صاف نہ ہو ۔ پس میری تسلی کے لئے خداتعالیٰ کے نشان متواتر نازل ہوئے یہاں تک کہ
و از خوارق روشن و کشف تقویت من بنمود و علم دقائق قرآن بر من ارزانی بفرمود۔ و ہمچنیں در علم احادیث برروئی من بکشود۔ و برمن آشکار کرد کہ تقدیم و تاخیر دروعدہ اش ہرگز راہ نیافتہ بل امر خود را درعین وقت نازل کردہ و بایں ہمہ نخواستم کہ قناعت بر نشانہائے قلیل و علاماتے چند بکنم بل از شدۃ رغبت در شہادات و ثبوتہا بسیار را اندک شمرام و بر چیز اندک و روشنی قلیل سر فرو د نیا وردم بلکہ من ازاں چشمہ دوری می جستم کہ آبش مکدر باشد۔ پس برائے تسلیت من نشانہائے الہٰی پیاپے نازل شد ند تا اینکہ روان من اطمینان کلّی بیافت