علیہ صلوات اللّٰہ والملائکۃ وأخیار الناس أجمعین۔ وقد سبق البیان منی أن ہذا الوقت وقت ظہور المسیح الموعود، وقد تمت کلمۃ ربنا صدقا وحقا وأوفیٰ بالعہود۔ وکیف لم یعرف وقد طال أمد الانتظار، وظہر کلُّ ما ورد من الآثار، وقد مضت مدۃ علی صراصر الفتن الصلیبیۃ، وارتد فوج من الأمم المحمدیۃ، وما بقی بیت إلَّا دخلت فیہ نصرانیۃ، وقلّت علی الأرض أنوار إیمانیۃ۔ فأرسلنی الرب الرحیم فی ہذہ الأیام وزاد معرفتی بتوالی الوحی والإلہام صلی اﷲ علیہ وسلم سے محبت کرتے ہیں اس نبی پر خدا اور اس کے فرشتوں اور تمام نیک بندوں کی طرف سے درود ہو۔ اور میں پہلے لکھ چکا ہوں کہ یہ وقت مسیح موعود کے ظہور کا وقت ہے اور ہمارے ربّ کی بات صدق اور سچائی سے پوری ہو گئی اور اُس نے اپنے عہد وں کو پورا کیا اور کس طرح پورا نہ کرتا اور اس کے وعدے کی مدت بہت گزر گئی تھی اور تمام نشانیاں پوری ہو چکی تھیں اور صلیبی فتنوں کی آندھیاں بھی ؔ بہت مدت سے چل رہی ہیں اور ایک فوج امت محمدیہ میں سے مرتد ہو چکی ہے اور کوئی گھر خالی نہیں رہا جس میں نصرانیت داخل نہیں ہو ئی اور ایمانی انوار زمین پر کم ہو گئے ہیں ۔ پس خدائے رحیم نے مجھے ان دنوں میں بھیجا اور وحی اور الہام کو متواتر نازل کر کے میری معرفت کو زیادہ کیا۔ (بروے از خدا وفرشتگان و کافہ مردم صلوات و تسلیم باد ) قبلا نگارش یافتہ کہ این وقت وقت ظہور مسیح موعود است و گفتار پروردگار ما بر استی و درستی سر انجام نیکو حاصل کردہ و وعدہ خود را ایفا فرمودہ و چگونہ ایفا نفرمودے در حالیکہ مدتے دیر باز بر وعدہ اش سپری شد۔ وہمہ نشانہا پدیدار گشتہ و تند بادہائے فتن صلیبیہ از زمانے دراز و زیدن گرفتہ و گروہے بسیار از امت محمدؔ یہ سر از دائرہ اسلام بیرون کشیدہ بود و خانۂ نماندہ کہ نصرانیت دراں سر زدہ داخل نشد و انوار ایمان بر زمین کم گردید۔ لہٰذا خدائے رحیم مرا در ہمچو روزہا فرستاد و از پیاپئے دادن وحی و الہام نور معرفت مرا بیفزود