ثم اعلموا یا جموع کرام أنی أُلہمت مذ أعوام، وأُمرت من ربّ علَّام أن أُظہر علی خواص وعوام، أن المسیح الصدیق الذی وُعِدَ
نزولہ لہذہ الأمّۃ عند شیوع فتن حماۃ الصلیب والکفارۃ، ہو ہٰذا العبد الذی بُعث علی رأس الماءۃ۔ وأُمِرَ أن یُتمّ حجّۃ اللّٰہ علی أہل الصلبان والفِدیۃ، ویکسر غلوّہم بالأدلۃ القاطعۃ، ویُقوّی بالآیات
أمر الملّۃ، ویقطع معاذیر الکفرۃ، ویأتی بمتاع جدید للمقوین۔
ویبشر للطالبین الذین یطلبون
مرضاۃ ربّہم ویحبّون خاتم النبیّین
پھر اے بزرگوں کے گروہ آپ لوگوں کو معلوم ہو کہ مجھے کئی سال سے الہام ہو رہا ہے۔ اور میں اس بات کو عام و خاص پر ظاہر کرنے کے لئے حکم کیا گیا ہوں کہ وہ مسیح صدیق جس کے اترنے کے لئے اس امت کو وعدہ دیا گیا ہے کہ وہ صلیبی فتنوں کے شائع ہونے کے وقت اترے گا وہ یہی بندہ ہے جو صدی کے سر پر مبعوث کیا گیا اور حَکَم کیا گیا ہے کہ تا خدا تعالیٰ کی حجت اہل صلیب پر پوری کرے اور دلائل قاطعہ کے ساتھ اُن کے غلو کو توڑے اور تمام کفار کا قطع عذر کرے اور جو لوگ بے توشہ ہو رہے ہیں ان کو متاع جدید عطا فرماوے اور خدا کے ڈھونڈنے والوں کو خوشخبری دے یعنی ان لوگوں کو جوخدا تعالیٰ کی رضا مندی کی راہوں کو ڈھونڈتے ہیں۔ اور جناب خاتم الانبیاء
جماعت بزرگاں بد انید کہ چندیں سال است من تشریف الہام یافتہ ام و مامورم باینکہ برخاص و عام اظہار آنرا بکنم کہ آں مسیح صدیق کہ نزولش برائے این امت در وقت فتنہ ہائے حامیان صلیب موعود است من بندہ ہستم کہ بر سر صد مبعوث شدہ ام و مامورم بایں کہ حجت خدا بر پرستاران صلیب اتمام بکنم و بنیاد غلوانہارا با دلائل قاطعہ از پادر آرم و امر ملت را بانشانہا استوار بنما یم وہر گونہ بہانہ ہائے کافران را ا ز سر ببرم و بے نوایان را برگ و ساز نو بہمر سانم و جویندگانے را مژدہ رسانم کہ راہ رضائے پرور دگار را جویند و خاتم النبیین را دوست دارند