قلوب الأبدال والأوتاد، وأما
علماء ہذہ البلاد فماتت قلوب أکثرہم وبعدوا من السداد،
وذہب اللّٰہ بنور ہدایتہم وضیاء درایتہم، وترکہم کالمخذولین۔ یُکفّرون ولا یعرفون من یُکفّرونہ ویعمہون، ویُعرضون عن الحق ولا یقبلون، و یرون آیات اللّٰہ ثم لا یہتدون۔ یسبّوننی و یشتموننی ویسعون لإجاحتی ویمکرون۔ ویسخرون منی ومن جماعتی وبسوء الألقاب ینبزون، وسیعلم الذین ظلموا أی منقلب ینقلبون
گئے اور مستقیم کئے گئے ۔ مگر اس ملک کے اکثر علماء کا دل مر گیا اور خد ا نے اُن کا نورِ ہدایت اور زیرکی چھین لی ۔
مجھے اکثر کافر کہتے ہیں اور نہیں جانتے کہ کس کو کہہ رہے ہیں اور حق سے منہ پھیرتے ہیں اور قبول نہیں کرتے اور خدا تعالیٰ کے نشان دیکھتے ہیں اور پھر ہدایت نہیں پاتے اور مجھے گالیاں دیتے ہیں اور میری بیخ کنی کے لئے کوشش کرتے اور منصوبے بناتے ہیں اور مجھ سے اور میری جماعت سے ٹھٹھا کرتے اور بڑے بڑے*نام رکھتے ہیں اور عنقریب ظالم لوگ جان لیں گے کہ کہاں پھیرے جاتے ہیں۔
کہ تبدیل و استقامت در انہا جا گرفتد۔ بسیارے از علمائے این بلاد دل شان مردہ و از راستی دُور افتادہ و خدا نور ہدایت و زیر کی را ازا نہا باز گرفتہ و از یاری و یاوری انہا دست باز کشیدہ۔ کافر می گویند و نمی دانند کر ا کافرمی گویند۔ و سر گردانیہامی کشند۔و از قبول حق گردن می کشندو نہ می پزیرند۔ خدا را نشانہا می بینند و دیدۂ وا زنمی کنند۔ دربارۂ من بدمے گویند و از پئے از پا در آوردنم تگاپو ہا کنند ۔وبرمن و گروہ من خندہ ہا زنند و بہ نامہائی بد یادآرند۔دور نیست کہ ستمگران بدانند کہ سر انجام کارایشاں چہ خواہد بود۔