ہذا یوم القبول والردّ من رب العالمین۔ أمّا الذین قبلوا فتری وجوہہم متہلّلۃ مستبشرۃ عارفۃ، وأمّا الذین ردّوا فوجوہہم کالحۃ دمیمۃ مستنکرۃ، وکل یری ما کسب فی ہذہ والآخرۃ۔ فمن جاء الصادق مصدقا فقد صدّق الرسول مُجدّدا وجمع شملا مبدّدا، ومن أعرض عن الصادق فعصٰی نبی اللّٰہ وما بالی التہدّد۔ وما أقول من تلقاء نفسی بل ہذا ما قال ربی وأکّد القول وشدّد۔ ابتُلیَت ببعثتی جموع الزہّاد والعباد، ولا یعرفنی إلَّا اور یہ دن قبول اور ردّ کا دن ہے ۔ اس میں قبول کرنے والوں کے منہ کشادہ اور خنداں اور پہچاننے والے ہیں اور رد کرنے والوں کے منہ ترش اور بد شکل اور نا شناس ہیں اور جس نے صادق کے پاس آکر اُس کی تصدیق کی اس نے نئے سرے رسول اللہ صلی اﷲ علیہ وسلم کی تصدیق کی اور اپنے امر متفرق کو جمع کرلیا اور جس نے اعراض اور انکار کر کے صادق کی تکذیب کی وہ شخص آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کا نا فرمان ہو گیا اور کچھ نہ ڈرا۔ یہ میرا قول نہیں بلکہ یہی خدا تعالیٰ نے تا کید اً فرمایا ہے ۔ میرے مبعوث ہونے کے ساتھ تمام زاہد اور عابد آزمائے گئے اور مجھے وہی دل جانتے ہیں جو بدلائے وردّ است ۔ آنا نکہ پذیر فتند روی ہائے شان در خشان و خندان و شناسا استند و روی ہائے سر باز زنان ترش و زشت و نا شناسا استند۔ ہر کہ در نزد صادق آمد و صد قش را پذیر فت او ازنو تصدیق رسول کریم (صلی اللہ علیہ وسلم ) کرد و امور پریشان خود را فراہم آ ورد۔ و آنکہ از گردن کشی و انکار کمر بر تکذیب صادق بر بست او گردن از فرمان رسول کریم بہ پیچید و بیمے دردل نیاورد۔ ایں گفتار ہوائے من نیست بل گفتار تاکیدی پروردگار است۔ ہمہ زاہدان بہ سبب بعثت من آزمودہ شد ند۔ و مرا نمے شناسد مگر دلہائے