والدعاء۔ فاشکروا اللّٰہ أنہ موجود فی زمنکم وفی ہذہ البلدان، وأنہ ہو الذی یُکلمکم فی ہذا الأوان، وہذا یوم تنزل فیہ البرکات، وتظہر الآیات، ویعود الإیمان الغریب إلی موطنہ، ویخرج لؤلؤ العلم من معدنہ۔ ہذا ہو الیوم الذی توجّست منہ قلوب الکفار، وانبجست رقّۃً عیون عیون الأبرار، وہذا یوم تقیّظ* الغافلین، ورقۃ المتیقّظین۔ و
مسیح العلٰی۔ ومسیح تحت الثریٰ ۔ وسمّی المسیح الصدیق عیسیٰ۔ لما عیس من بطشۃ القوم کابن مریم امام الھدیٰ۔ وعیس من جور السلطنت مع الضعف والمسکنۃ وتھاویل اخریٰ۔ منہ
ہو گی ۔ پس خدا تعالیٰ کا شکر کرو کہ وہ تمہارے زمانہ اور تمہارے ملک میں موجود ہے اور وہی تو ہے جو اس وقت تم سے کلام کر رہا ہے اور یہ وہ دن ہے جس میں برکات نازل ہو رہے ہیں اور نشان ظاہر ہو رہے ہیں اور ایمان کا مسافر اپنے وطن کی طرف رجوع کر رہا ہے اور اس کے معدن سے علم کے موتی نکل رہے ہیں ۔یہ وہ دن ہے جس سے کفار کے دلوں میں دھڑ کا بیٹھ گیا ہے اور غلبہ رقت کی وجہ سے ابرار کی آنکھوں سے آنسوؤں کے چشمے ظاہر ہو رہے ہیں۔ یہ دن غافلوں کے جاگنے کا دن اور جاگنے والوں کی رقت قلب کا دن ہے۔
آسمان کا مسیح اور زمین کا مسیح۔ منہ
خواہد بود۔ خدا را شکر بجا آرید کہ او در ملک شما و درمیانہ شما موجود و ہمان است کہ باشما تکلم می کند و این روزیست کہ برکات در آں نزول می فرماید و نشانہا آشکار می شود و ایمان غریب بوطن خود باز پس می آید و کان وے دُرِّ علم بیرون می دہد۔ این روزے است کہ خفقانے ازان درد ل کفار راہ یافتہ و دیدۂ پاکان از کمال رقت چشمہ ہائے سر اشک روانہ ساختہ اند۔ امروز روز بیداری غافلان و رقت بیداران و روز قبول
دست بساید او مسیح صدیق وکار او تائید حق ورہانیدن غریق است۔ و لفظ مسح بر مسح آسمان و مسح زمین ہر دو اطلاق مے یابد۔ منہ