سیوفا مُشہّرۃ ولا أسنّۃ مُذؔ رّبۃ۔بل یکون مدارہ علی مسح برکات السماء، وتکون حربتہ أنواع التضرّعات الدّنیۃ۔ ویستعملؔ انواع التحریف والمکائد والتلبیس والخدعۃ ویؤید الباطل بسائر اقسام الدجل والدنس التمویہ والتعظیہ۔ فھو المسیح الدجال و امرہ التزویر و تزیین الباطل والاضلال۔ والذی یفوض کل امرہ الٰی حضرۃ الکبریاء ۔ ویقطع الاسباب ویبعد منھا ویعکف علی الدعاء۔ ویسعی من الاسباب الی المسبب حتی یمسح بتوکلہ اعنان السماء۔ فذالک ھو المسیح الصدیق۔ و امرہ تائید الحق وکَلِمًا ینجو بہ الغریق۔ والمسیح اسمٌ مشترک بینھما اور نیزہ سے کام نہیں لے گا ۔ بلکہ تمام مدار اس کا آسمانی برکتوں کے چھونے پر ہو گا اور اس کا حربہ قسم قسم کی تضرع اور دعا اور مکر اور تلبیس اور فریب سے کام لے گا ۔ اور تمام قسم کے دجل اور فسق سے باطل کی تائید کرے گا۔پس وہ مسیح دجال ہے اور کام اس کا تزویر اور گمراہ کرنا ہے ۔ مگر جو شخص اپنا ہر ایک امر خدا تعالیٰ کے سپرد کرے گا اور قطع اسباب کر کے دُعا پر زور ڈالے گا ۔ اور اسباب سے مسبب کی طرف دوڑے گا یہاں تک کہ اپنے توکّل کے ساتھ آسمان کی سطح کو چھو لے گا یہ مسیح صدیق ہے ۔ اور اس کاکام حق کی مدد کرنا اور غریق کو بچانا ہے۔ اور مسیح کا لفظ دو چیزوں میں مشترک ہے۔ کار از سیف وسنان نگیر دبل جملۂ کارو بار اوبستہ بر مسح برکات آسمانی باشد و حربۂ او دعا ہائے گوناگون وے ہر نوع تحریف و مکرؔ و تلبیس و فریب در کار آورد و ہر رنگ دجل و زور و دروغ و حقہ بازی از بہر رواج دادن ناراستی صرف نماید۔ آں مسیح دجال است و کار او فریبیدن واز راہ بردن و آراستن دروغ است۔ و لیکن شخصے کہ جملہ امر خویش بخدا بسپارد و از اسباب بریدہ ہمۂ ہمت بر دعا بگمارد و از اسباب ردّی بہ سبب سازبیارد حتی کہ از کمال توکل بر سطح آسمان