عقیدۃ إلَّا وفیہا أقوال، فیختار القول الحق منہا ویترک ما ہو باطل وضلال۔ وأمّا المہدی فبما رُوِی أنہ لایأخذ العلم من العلماء ، ویُہدی من لدن ربہ کما کان سُنّۃ اللّٰہ بنبیّہ
محمد خیر الأنبیاء ، فإنہ ہُدِی
وعُلِّم من حضرۃ الکبریاء ، وما
کان لہ مُعلّم آخر من غیر اللّٰہ ذی العزّۃ والعلاء۔ وأمّا المسیح فبما رُوِی أنہ لا یستعمل* للدّین
* المراد من لفظ المسیح کما جاء فی الحدیث الصحیح مسیحان۔ مسیح قاسط خارج فی آخر الزمان۔ و مسیح مقسط فی ذالک الاوان۔ فالذی یزجّی امرہ بالاسباب الردیۃ الارضیۃ ویمسح کل عذرۃ الارض بالحیل
عقیدہ ایسا نہیں ہو گا جس میں کئی قول نہ ہوں ۔ پس وہ حق کو اختیار کرے گا اور باطل اور گمراہی کو چھوڑ دے گا اور مہدی کے نام کی وجہ جیسا کہ روایت کیا گیا ہے یہ ہے کہ وہ علم کو علما ء سے نہیں لے گا اور خدا تعالیٰ کے پاس سے ہدایت پائے گا جیسا کہ اللہ جلّ شانہٗ نے اپنے نبی محمدصلی اﷲ علیہ وسلم کو اسی طریق سے ہدایت دی۔ اس نے محض خد ا سے علم اور ہدایت کو پایا۔اور مسیح*کے نام کی وجہ جیسا کہ روایتؔ کی گئی ہے یہ ہے کہ وہ دین کی اشاعت کے لئے تلوار
* مسیح کے لفظ سے مراد احا دیث کے رو سے دو مسیح ہیں۔ ایک مسیح ظالم آخری زمانہ میں آنے والا اور ایک مسیح عادل اسی زمانہ میں آنے والا ۔ پس وہ شخص جو ردی طریقوں سے کام چلاتا ہے اور زمین کی ہر ایک نا پاکی کو ذلیل حیلوں کے ساتھ چھوتا اور طرح طرح کیؔ تحریف
دست زدہ اقوال متعدد ہ خواہند بود۔لا جرم او حق را از میانہ اختیار و باطل وضلال را ترک بکند و بر حسب رو ایت مہدی بسبب آن است کہ علم را از علما ء نگیرد بل بلاتوسط احد ے از خدا ہدایت یا بد ہمچنانکہ نبی خود محمد مصطفےٰ را ( صلی اللہ علیہ وسلم ) ہدایت فرمود۔ واو از خدا مشرف بہ الہام و مکالمہ و تعلیم دادہ شود۔ و وجہؔ اسم مسیح* بر طبق روایت آنکہ او در اشاعت امر دین
ازقرؔ ارا حادیث لفظ مسیح بردوتن اطلاق یافتہ۔ مسیحے بیداد گر کہ در آخر زماں پیدا شود و دیگر مسیحے داد گر کہ ہمدراں زماں
ظہور فرماید۔ خلاصہ آنکہ از طریقہ ہائے بر کار بگیرد و ہر گونہ نا پاکی و گندگئ زمین را باحیلہ ہائے فرو مایہ دست کندو