النظام، وأنتم تقرء ون أن الملّۃ لا تری یوم الزوال بالکلّیۃ، ولا تنفک منہا آثار القوۃ والشوکۃ۔ وبینما ہی کذالک فینزل المسیح المجدد علی رأس الماءۃ، وہو یأتی حکما و عدلا ویقضی بین الأمّۃ۔ فیجمع السعداء علی کلمۃ واحدۃ بعد افتراق المسلمین وآراء مختلفۃ۔ وأسماء ہذا المجدد ثلاثۃ وذکرہا فی الأحادیث الصحیحۃ صریح: حکم ومہدی ومسیح۔ أما الحکم فبما رُوِیَ أنہ یخرج فی زمن اختلاف الأمّۃ، فیحکم بینہم بقولہ الفصل والأدلۃ القاطعۃ۔ وعند زمن ظہورہ لا توجد کے پیچھے ظاہر ہو اور آپ لوگ کتابوں میں پڑھتے ہیں کہ ایسے زوال کا دن اسلام پر کبھی نہیں آئے گا اور شوکت اور قوت کے علامات کبھی اس سے علیحدہ نہیں ہو ں گے اور اسلام اسی حالت پر ہو گا کہ مسیح موعود صدی کے سر پر نازل ہو جائے گا اور وہ حَکم عدل ہو کر آئے گا اور امت کے اختلاف دور کرے گا اور سعید لوگوں کو بعد اختلافات کے ایک کلمہ پر جمع کر دے گا ۔ اور اس مجدد کے تین نام ہیں جو احادیث صحیحہ میں بتصریح مذکور ہیں ۔یعنی حَکم اور مہدی اور مسیح۔ ا ور جیسا کہ روایت کیا گیا ہے حَکم کے نام کی یہ وجہ ہے کہ مسیح موعود امت کے اختلافات کے وقت میں ظاہر ہو گا اور ان میں اپنے قولِ فیصل کے ساتھ وہ حُکم دے گا جو قریب انصاف ہو گا اور اس کے زمانہ کے وقت میں کوئی وواشدن شیرازۂ دین جلوہ گر بشود۔ و شمادر کتب می خوانید کہ مثل ایں روز سیاہ ہر گز بہرۂ اسلام نخواہد بود و علامات شوکت و صلابت ابداً از وے منقطع نخواہد گشت۔ ہم درایں اثنا مسیح موعود بروز کند واو حکم عادل باشد و اختلافات را از میانہ امت رفع ساز د و فرخندہ بختان را بعد از پراگندگیہا بریک کلمہ جمع آردو آں مجدد راسہ نام است کہ در احادیث صحیحہ بہ تصریح مذکور است یعنی حکم و مہدی و مسیح۔ از قرار روایت حکم بجہت آن است کہ مسیح موعود در وقت خلاف امت نازل شود۔ وبا قول فصل درمیانۂ اختلافات حکمی کند کہ قرین انصاف باشد۔ در ایّامے کہ او ظہور فرما ید جملہ عقائد