وترون أن أفواجا من المسلمین ارتدت وخرجت من ہذہ الملّۃ، ففکروا ألیس ہذا رزئیۃ عظمی علی الشریعۃ المحمدیۃ؟ ثم مع ذالک سبّوا نبینا المصطفٰی، وطعنوا فی دیننا وبلّغوا الأمر إلی المنتہٰی۔ أمکّنہم اللّٰہ منّا وما مکّننا من العدا؟ تلک إذًا قسمۃ ضیزیٰ۔ وإن کنتم تنتظرون مصائب أخریٰ فإنّا للّٰہ علی ہذا الرأی والنہٰی۔ أتریدون أن ینعدم الإسلام کل الانعدام ولا یبقی اسمہ ولا اسم نبیّنا خیر الأنام؟ ثم یظہر المسیح بعد فناء الملّۃ واختلال اور آپ لوگ دیکھتے ہیں کہ ہزارہا مسلمان مرتد ہو کر دین اسلام کو چھوڑ گئے ہیں ۔ پس سوچ لو کہ کیا یہ نہا یت بڑی مصیبت ہمارے دین محمدی پر نہیں ہے اور پھر انہوں نے علاوہ بد مذہبی پھیلانے کے ہمارے نبی صلی اﷲ علیہ وسلم کو گالیاں بھی دیں اور ہمارے دین اسلام پر اعتراض کئے اور ہجوکی اور بات کو انتہا تک پہنچا دیا۔ کیا خد ا نے ان کو ہمیں دکھ دینے کیلئے موقعہ دیا اور ہمیں نہ دیا ۔ پس یہ تقسیم تو ٹھیک ٹھیک نہ ہوئی۔ اور اگر آپ لوگ اور مصیبتوں کے منتظر ہیں پس بجز انّا للّٰہ کے اور کیا کہیں ۔ کیا آپ لوگ یہ چاہتے ہیں کہ اسلام بکلّی معدوم ہو جائے اور اسلام اور آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کا دنیا میں نام و نشان نہ رہے ۔ پھر مسیح موعود ملت اسلام کے فنا ہونے کے بعد اور نظام دین کے خلل پذیر ہونے شمامی بینید ہزاراں مسلمانان جامۂ ارتداد در بر کردہ اند۔ انصافاً بگوئید بلائے بزر گتر از این بر دین محمدی چہ خواہد بود۔ ازین گزشتہ نبی کریم مارا (صلی اللہ علیہ وسلم ) را دشنام دہند۔ و دین متین مارا ہدف اعتراضات ساز ند و ذم و ہجا کنند و کار از حد گذرانید ند۔ آیا خد اریسان ایشاں را در از کردہ و بر سر ما مسلط گرد انید ہ کہ از دست انہا رنج و آزار یابیم ۔ بخدا ایں تقسیم کہ خوب نیست و اگر شما در انتظار مصیبت ہائے بزرگتر از ایں نشستہ اید ما بجز از استر جاع چہ گوئیم۔ آیا شما آرزو دارید اسلام بکلی از ہم بپاشد و اثر ے از اسلام و ازان ذات خیر الانام ( علیہ الصلوۃ والسلام ) درد نیا نماند۔ و مسیح بعد از افنائے ملّۂ اسلام