تعنّی المنتظرون لأجل المسیح النازل، ودیسوا تحت النوازل وارمدّت عین المنتظرین. أیہا السادات والشرفاء ! رحمکم اللّٰہ وأتاکم منہ الضیاء۔ انظروا وکرّروا النظر وأمعنوا ألیس من وعد اللّٰہ أن ینزل المسیح عند الزلازل الصلیبیۃ، فیُقبل علی المسلمین إقبال الرحمۃ والنصرۃ، ویجزل لہم اللّٰہ طولہ ویتم قولہ بالفضل والمنّۃ؟ وتعلمون أن القسوس کیف غلبوا علی أمورہم، وقلّبوا الأرض بظہورہم۔ وطال علیہم الأمد، فأین ذھب ما وعد الصدوق الصمد؟
مسیح کی انتظار کرتے کرتے لوگو ں نے بہت رنج اٹھایا ہے اور حوادث کے نیچے کچلے گئے ہیں اور انتظا ر کرتے کرتے لوگو ں کی آنکھیں پک گئیں اے بزرگو ! اور شریفو ! خدا تم پر رحم کرے اور اپنے پاس سے تمہیں روشنی عطا فرماوے ۔ نظر کرو اور دوبارہ دیکھو اور خوب غور کرو۔ کیا یہ خدا تعا لیٰ کا وعدہ نہیں ہے کہ وہ مسیح موعود کو صلیبی زلزلوں کے وقت میں نازل کرے گا اور پھر وہ مسلما نوں پررحمت اور مدد کے ساتھ متوجہ ہو گا اور اپنی عطا ان پر پوری کرے گا اور اپنے قول کی سچائی ظاہر فرمائے گا اور آپ لوگ جانتے ہیں کہ پادری لوگ کیو نکر اپنے مقاصد پر کا میاب ہو گئے ہیں اور زمین کو اپنے ظہور کے ساتھ زیر و زبر کردیا ہے۔ اور ان کی کارروائی پر بڑی مدت گزر گئی ہے پس اس سچے خدا کا وعدہ کہاں گیا
مردم در انتظار مسیح زحمتہاکشیدہ ودر زیر بلا ہا پائمال گردیدہ و چشمہا در راہش سفید گشتہ اند۔بزرگان و کلانان خدا نظرے در شمابکندو نورے بہ شمابہ بخشد۔ اندیشہ بفرمائید و سگالشہادر کار بکنید آیا وعدہ الہٰی نبودہ کہ مسیح را در ہنگام قوہ صلیب فرود فرستدو رحم و فضلش یارو یاور مسلمانان بگردد و نعمت خود را بر ایشاں اتمام کند و راستی گفتار خود رابظہور بیارد۔ بر شما پوشیدہ نخواہد بود کہ کشیشان درکار خود کامیاب و شاد کام گردیدہ و زمین را بظہور خود زیر و زبر نمودہ اند۔ ومدتے دراز ابقابر کارروائی انہا شدہ۔ اکنون چہ شد وعدہ آں خدائے صادق ۔