وحان أن یرحم اللّٰہ الضعفاء ویجبر ضیق أمورہم
ویخرجہم من قبورہم۔ وقد
المفاسد الموجودۃ۔ و لایتوجہ الَّا الٰی قلع ما کبر من السیئات الشایعۃ۔ ومن المعلوم ان الفساد العظیم فی ھذا الزمان ھو فتنۃ اھل الصُّلبان۔ وھو الذی اھلک کثیرًا من اھل البراری والبلدان۔ فوجب ان یأتی المجدّد علی رأس ھٰذہ الماءۃ لھذا الاصلاح۔ و یکسر الصلیب و یقتل خنازیر الطلاح۔ و من یکسر الصلیب فھوالمسیح الموعود۔ ففکّر ایّھا الزکی المسعود۔ منہ
وہ وقت آگیا کہ خدا تعالیٰ ضعیفوں پر رحم کرے اور ان کی تنگیوں اور تکالیف کا تدارک کرے اور ان کو قبروں میں سے نکالے اور
اصلاح کے لئے آتا ہے ۔ اور اس بدی کی بیخ کنی کی طرف متوجہ ہو تا ہے جو پھیلی ہوئی بدیوں میں سے بڑی بدی ہو اور یہ معلوم ہے کہ اس زمانہ میں فساد عظیم صلیبی کارر وائیوں کا فساد ہے ۔ اسی فساد نے بہت سے بیابانی اور شہری لوگوں کو ہلا ک کیا ہے ۔ پس یہ امر واجب ہے کہ مجدد اس صدی کا اس اصلاح کے لئے آوے
اور بموجب منشاء احادیث کے کسرِ صلیب اور قتل خنازیر کرے ۔اور جو شخص کسرِ صلیب کرے وہی مسیح موعود ہے ۔ پس اس امر کو اے سعید آدمی سوچ ۔ منہ
مردم ر انعل در آتش کردہؔ و وقت آںآمدہ کہ خدائے مہربان ناتوانان را در یابد و تنگی ایشاں بفراغے برگرداند۔ واز گورہاشاں بروں کند
بیخ آن بدی می آرد کہ بزرگ ترین بدی ہائے آں وقت باشد۔ پوشیدہ نیست کہ شر بزرگ در این زمان فتنۂ صلیب است کہ بسیارے را از اہل بیابان و شہر ہا بر خاک ہلاک نشاندہ۔ لہٰذا لازم آنکہ بر سر این صد مجددے برائے اصلاح این خرابیہا بیاید و صلیب را بشکند و خنزیران را بکشد و آن کہ کار او شکستن صلیب است ہماں مسیح موعود است ۔ منہ