ہذا الدین القبیح من أوّل علامات ظہور المسیح؟ وعلیہا اتفق أہل السُنّۃ بالإقرار الصریح، ولم یبق فرد منہم مخالفا لہذا الحدیث الصحیح۔ ولا یقبل عقل سلیم وطبع مستقیم أن تظہر العلامات بہذہ الشوکۃ والشان، وتبلغ إلی حدّ الکمال طرق الدجل والافتنان، وتنقضی علی شدّتہا برہۃ من الزمان، ثم لا یظہر المسیح الموعود إلی ہٰذا الأوان۔ مع أن ظہورہ علی رأس المِأَۃ من المسلّمات، وقد مضت المِأَۃ قرؔ یبا من خمسہا وانتہی الأمر إلی الغایات
لایخفی ان المجدد لایاتی الَّا لاصلاح
بد دین کا پھیلنا ظہور مسیح کی پہلی علامت ہے اور اس پر اہل سنت نے اقرار صریح کے ساتھ اتفاق کیا ہے اور کوئی فرد ان میں سے اس حدیث صحیح کا مخالف نہیں ہے اور عقل سلیم اور طبعِ مستقیم قبول نہیں کر سکتی کہ علامتیں تو اس شوکت اور شان کے ساتھ ظاہر ہوں اور دجل اور فتنہ انگیزی کمال تک پہنچ جائے اور اس پر ایک زمانہ بھی گزر جائے اور مسیح موعود اب تک ظاہر نہ ہو باوجو د اس بات کے کہ صدی کے سر پر اس کا ظاہر ہو نا امور مسلّمہ دین میں سے ہے ۔ اور صدی بھی خمس کے قریب گزر گئی اور انتظار مجددؔ کا امر نہایت* تک پہنچ گیا ۔ اور
یہ بات پوشیدہ نہیں ہے کہ مجدد موجودہ فساد کی
ملّت قبیحہ ۔۔۔ او ل علامت ظہورِ مسیح موعود است۔ و اہل سنہ باقرا رصریح بر این اتفاق دارند و ہیچ نفسے از اوشاں خلاف این حدیث صیحح نر فتہ۔ عقل سلیم باور نکند کہ نشانہا بااین شان ظاہر بشوند و طریق فتنہ و فریب بسرحد پایان برسد و زمانے دراز از زمان براں بگذرد و ہنوز مسیح موعود بروز نکند با آنکہ ظہور ش بر سر صد از مسلّمات است و اکنون از صد قریب بہ پنجم حصہ آں گذشتہ وانتظارش
ظاہرؔ ا مجدد از پءَے اصلاح مفاسد موجودہ مے آید و روے بہ بر کندیدن