أہذا أمر تقبلہ الفراسۃ الإیمانیۃ أو تشہد علیہ الصحف الربّانیۃ؟ ألیس ہذا وقت فتنۃ وبلاء ، وساعۃ حکم وقضاء ، وفصلٍ وإمضاء ، وزمان إزالۃ التہم وإبراء؟ أو ہذہ ثلمۃ ما أراد اللّٰہ أن یسد وقضاء ما شاء الرحمٰن أن یرد؟ کلَّا بل سبقت من اللّٰہ من قبل بشارۃ عند ہذہ الآفات، وملئت الکتب من التبشیرات، فمن الغباوۃ أن تُنسی البشارات، ولا یُرَی الآثار والإمارات۔ ألیس حقّا أن غلبۃ الصلیب وشیوع کیا یہ وہ بات ہے جس کو ایمانی فراست قبول کر سکتی ہے یا جس پر ربّانی صحیفے گواہی دیتے ہیں ۔ کیا یہ فتنہ اور بلا کا وقت نہیں اور خد اکے حکم اور فیصلہ کی گھڑی نہیں اور کیا اسلام کو بَری کرنے اور تہمتوں کے دور کرنے کا زمانہ نہیں یا کیا یہ ایسا رخنہ ہے کہ خدا تعالیٰ نے ارادہ نہیں فرمایا کہ بند کیا جائے یا ایسی تقدیر ہے کہ اس رحمان نے نہیں چاہا کہ ردّ کی جائے ہرگز نہیں بلکہ اس سے پہلے قوم کو بشارتیں مل چکی ہیں اور بشارتوں سے کتابیں بھری پڑی ہیں ۔پس یہ نا سمجھی اور غباوت ہے کہ ان بشارتوں کو بھلایا جائے اور نشانوں اور علامتوں کو نہ دیکھا جائے۔ کیا یہ بات سچ نہیں ہے کہ صلیب کا غلبہ اور اس آیا فراست ایمانی تو ۔۔۔ ایں را باور می کند یا ۔۔۔ نوشتہ ہائے ایزدی شہادت ایں امر می دہند۔ آیا این زمان زمان فتنہ و بلاو ۔۔۔ ساعت حکومت وفضل از قبل خدا نیست۔ و وقت آں نیست کہ چہرۂ اسلام را از آلایش افترا و بہتان پاک نمودہ شود۔ یا این رخنہ ایست کہ خدا نمی خواہد کہ آن را بر بندد یا تقدیر ے کہ آن رحمن نمی خواہد کہ رد بشود۔ نے نے بل قوم را پیش زیں در بارہ ہمچو ایام مثردہ ہا دادہ اند و کتابہا ازین بشارات لبریز اند۔ از کودنی و نادانی است کہ آں بشارات را از یاد بروں کردن و نظر بر آثار و علامات نینداختن۔۔۔۔ آیا راست نیست کہ غلبۂ صلیب و شایع شدن این