أیہا الإخوان! قوموا فُرادیٰ فُرادیٰ، ثم فکّروا نِصفۃً ولا تکونوا کمن عادیٰ۔ أیفتی قلبکم أن تبلغ المصائب إلی ہذہ الحالات، وتضیق الأرض علی المسلمین والمسلمات، وتکثر الفتن حتی ترتعد منہا القلوب، وتزداد الکروب۔ ثم مع ذالک لا تنزل نصرۃ اللّٰہ من السماء ، ولا یتم الوعد الحق من حضرۃ الکبریاء ، وتمضی رأس الماءۃ کجہام، ولا یُری فیہ وجہ مجدّد وإمام، ولا تغلی مرجل غیرۃ علَّام مع توالی الفتن وإحاطتہا کغمام اے بھائیو !اکیلے اکیلے ہو کر کھڑے ہو جاؤ اور پھر انصاف کے رو سے فکر کرو اور دشمنوں کی طرح مت ہو ۔ کیا تمہارا دل یہ فتویٰ دیتا ہے کہ مصیبتیں اس حد تک پہنچیں اور مسلمانوں پر زمین تنگ ہو جائے اور فتنے بکثرت پید اہو جائیں یہاں تک کہ ان سے دلوں پر لرزہ پڑے اور بے قراریاں بڑھ جائیں۔ پھر باوجود ان تمام آفتوں کے خداتعالیٰ کی مدد آسمان سے نازل نہ ہو اور خداتعالیٰ کا وعدہ پورا نہ ہو اور صدی کا سر ا س بادل کی طرح گذر جائے جس میں پانی نہ ہو اور کسی مجدد اور امام کا مُنہ اس میں ظاہر نہ ہو اور خداتعالیٰ کی غیرت کی دیگ جو ش میں نہ آوے باوجودیکہ فتنے اَبر کی طرح محیط ہو جائیں۔ برادران ! خدا را یکان یکان اندیشہ بفرمائید و از دشمنی بر کنا ر باشید۔ آیا دل شما روا دارد کہ مصیبت ہا بایں پایان برسد و زمین بر اہالئے اسلام تنگ بشود و فتنہ ہا افزونی یابد تا بحد ے کہ دلہا ازاں بلرزدو آب تپش ہا ا ز سر بگذرد ولے باایں ہمہ مدد خدا از آسمان نرسد و وعدہ اش بر روئے کارنیاید و سر صد چون ابر بے باران رائیگان سپری شود و امامے و مجددے برقع ا زرخ بر ندارد و باوجود آنکہ فتنہ ہا چوں بر جہان را فراگرفتہ اند۔ ہیچ غیرتِ الہٰیہ در حرکت نیا ید۔