للإسلام الغریب أن یُنصر بکسر الصلیب*؟ أما حان أن تظہر مواعید الحضرۃ الأحدیّۃ، وقد دیس الدین تحت أقدام النصرانیۃ؟ وفکّروا ألم تقتض مصلحۃ حفظ الدین والملّۃ أن یبعث اللّٰہ مُجدّدًا علی رأس ہذہ الماءۃ بالآیات والأدلۃ لیکسرما بنا أہل الصُلبان، ویُظہر الدین علی سائر الملل والأدیان؟ * قدسبق منا البیان فی تأویل کسر الصلیب۔ فلیرجع الیہ القاری ولیعلم انّ المعنی المشہور فی العلماء من الاکاذیب۔منہ۔ غریب کے لئے ابھی وقت نہیں آیا کہ کسرِ صلیب* کے لئے مدد دیا جائے۔ کیا ابھی وقت نہیں آیا کہ خدا تعالیٰ کے وعدے پورے ہوں۔ حالانکہ دین اسلام نصرانیت کے قدموں کے نیچے کچلا گیا ہے۔ اور ذرا فکر کرو کہ آیا یہ مصلحت کہ دین کو بچایا جاوے تقاضا نہیں کرتی تھی کہ اس صدی کے سر پر کوئی مجدد نشانوں اور دلائل کے ساتھ مبعوث کیا جائے تاکہ وہ اس بنیاد کو توڑے کہ جو اہلِ صلیب نے بنائی اور تمام دینوں پر دین اسلا م کو غلبہ دیوے ۔ * ہم کسرِ صلیب کے معنی بیان کر چکے ہیں ۔ پس چاہیے کہ پڑھنے والا ان معنوں کی طرف رجوع کرے اور یاد رکھے کہ جو علما ء میں معنی مشہور ہیں وہ غلط ہیں۔ نر سیدہ کہ از پارہ پارہ کردن صلیب* دست گیری اسلام کردہ شود و جان تازہ در قالبش دمیدہ آید۔ و آیا ہنوز آن زمانے نیامدہ کہ وعدۂ حق تعالیٰ شانہ ایفا شود۔ حال آں کہ اسلام لکد کوب نصرانیت گردیدہ است۔ فکرے بکنید کہ آیا صیانت دین نمی خواہد کہ بر سرِ ایں صد مجدد ے بانشانہا و دلائل حقہ مبعوث شود تا بنائے اہل صلیب ر ا از پائے در آرد و ملّہ اسلام را بر ملل و دیانہ ہا سر بلندی بخشد۔ *سابقاً در بارہ تاویل کسر صلیب تشریح کردہ ایم خوانندگان آن را در خاطر بدارند و نیکو بدانند کہ آنچہ درمیانۂعلماء مشہور است از غلط کاری و کج فہمی انہا ست۔ منہ