بحبالہا، واستحکم مریر إقبالہا، ودخل فی دینہم أفواج من المسلمین، وملئت دیارنا من المرتدّین۔ وأیّ شیء أشدّ مضاضۃ من ہذا علی المؤمنین الغیورین؟ وقد کذبوا وما نفعتہم الذکری وما کانوا منتہین۔ وکنا نرجوا أن نُدخل النصاری فی أجیالنا۔ والآن یُخلس من رأس مالنا، ویُطمَع فی إضلالنا۔ وقد فرّقوا الأبناء من الآباء، والأصادق من الأصدقاء والامھات من الاولاد ، والعجائز من فلذۃ الأکباد۔ فانظروا ألم یأن
کیسے مضبوط ہو گئے ہیں اور ان کا لمبا رسہ اقبال کا نہا یت پختہ ہو گیا ہے اور ان کے دین میں ایک فوج کثیر مسلمانوں کی داخل ہو چکی ہے اور ہماراملک مرتدوں سے بھر گیا ہے اور اس سے زیادہ مومنوں پر اور کونسی جان کاہ سختی ہو گی اور انہوں نے اسلام کی تکذیب کی اور نصیحت نے کچھ بھی فائدہ نہ دیا اور نہ باز آئے۔ اور ہم یہ امید رکھتے تھے کہ عیسائیوں کو اپنے گروہ میں شامل کر لیں گے اور اب ہمارا ہی رأس المال چھینا گیا اور ہمارے گمراہ کرنے کے پیچھے پڑے ہیں۔
اور انہوں نے بیٹوں کو باپوں سے اور دوستوں کو دوستوں سے اور ماؤں کو بچوں سے اور بوڑھی عو رتوں کو ان کے جگر گوشوں سے جدا کر دیا ہے۔اب دیکھو کہ کیا اسلام
چہ قد ر استوار گردیدہ درسن دراز اقبالش ہر چہ تمامتر محکم گشتہ۔ گروہے بسیار ے از ا ہالئے اسلام دردین انہا در آمدہ و ملک ما از مرتدان پُر شدہ۔ نزد مومن با غیرت بلائے جان کاہ تر ازین چہ خواہد بود کہ ہرسوز پے تکذیب اسلام بر آمدہ اند و از پند وا عظان طرفے بر نہ بستند۔ مادر بندآن بودیم کہ گروہ نصاریٰ را در گروہ خود درآریم ولے اکنون خود سرمایۂ ما از دست ما میرود۔ و از بہر گمراہ کردن ماکوشش ہامے کنند۔ پسران را از پدران و دوستان را از دوستان و مادران رااز فرزندان و پیر ہ زنان را از جگر گوشہ ہا جُدا کردہ اند۔ آیا ہنوز وقت آں