وإنّ نقض العہود من سیر الکاذبین، فکیف یصدر ہذا من أصدق الصادقین؟ وہو ملکٌ قدّوسٌ نور السماوات والأرضین، لا یُعزی إلیہ کذب ولا تخلّف وعدٍ کالمخلوقین، وقد تنزّہ شأنہ عن صفات المزوّرین۔ انظر إلی وعدہ ثم انظر کیف
بلغت دعوۃ الصلیب ذُرَی کمالہا وقطعت الأ ؔ !طماع عن زوالہا،
وترون أن خیامہا کیف رست
یکسر شان ھٰذہ السادات
وانما نرد سبّ السابّین
علی وجوھھم جزآء
للمفتریات ۔ منہ
کیونکہ نقض عہد جھوٹوں کی خصلتوں میں ہے ۔ سو یہ امر اصدق الصادقین سے کیونکر صادر ہو سکے ۔ اور وہ قدوس آسمانوں اور زمین کا نور ہے ۔ اس کی طرف جھوٹ اور تخلّفِ وعدہ مخلو ق کی طرح منسوب نہیں ہو سکتا اور اس کی شان دروغگو لوگوں کی صفات سے منزّہ ہے ۔ اس کے وعدہ کو دیکھ ۔ پھر دیکھ کہ صلیبی دعوت کس کمال تک پہنچ گئی ہے ۔ اور اس کے زوال کیؔ امید قطع ہو چکی ہے ۔ اور تم دیکھتے ہو کہ اس کے خیمے رسّوں کے ذریعہ
نہیں ہے جو ان بزرگوں کی کسر شان کرتا ہو اور صرف ہم گالی دینے والوں کی گالی ان کے منہ کی طرف واپس کرتے ہیں تا ان کے افتراکی پاداش ہو ۔ منہ
کہ ہر گاہ وعدہ کند ایفا کند۔ چہ شکستن عہد شیمۂ درو غ زنان است چہ جائے آنکہ از راست ترین راستاں سر بر زند۔ و آں پاک بر تر نور آسمان و زمین است و چوں آفرید ہ ہا دروغ و خلاف وعدہ باو منسوب نمی شود۔ و شان وے بالا تر از دروغِ زنان است۔ اوّلاً نظر بر وعدہ اش بکن باز نگاہے بینداز کہ دعوت صلیبی تا چہ پایاں رسیدہ و امید زوال آن بنو میدی بدلؔ شدہ۔ خیمہ اش باطنابہا
در بیان ما حرفے نخواہد بود کہ کسر شان ہمچو بزرگان ازآن پیدا شود کار ما جز این نہ کہ دشنام دشنام دہندگان رابر روئے شان باز۔ پس میزنیم تا انہابہ پاداش افترائے خود برسند۔ منہ