ویفعل ما أراد۔ فکان من مقتضی الوعد أن یُرسل مسیحہ لکسر صلیب علا، والکریم إذا وعد وفا۔ الواضحۃ والحجج البینۃ۔ وانااُمرنا ان نتم الحجۃ بالرفق والحلم والتؤَدۃ۔ ولاندفع السیءۃ بالسیءۃ الا اذا کثرسبّ رسول اﷲؐ و بلغ الامر الی القذف و کمال الاھانۃ فلا نسبّ احدًا من النصاریٰ۔ ولانتصدی لھم بالشتم والقذف وھتک الاعراض۔ وانما نقصد شطر الذین سبوا نبیّنا صلی اﷲ علیہ وسلم وبالغوافیہ بالتصریح اوالایماض۔ ونکرم قسوسا لایسبون ولایقذفون رسولنا کالارازل و العامۃ۔ و نعظم القلوب المنزھۃ عن ھذہ العذرۃ۔و نذکرھم بالاکرام و التکرمۃ۔ فلیس فی بیان منا حرف ولانقطۃ اور جو کچھ چاہتا ہے ظہور میں لاتا ہے پس یہ وعدہ کا مقتضا تھا کہ وہ کسر صلیب کے لئے اپنے مسیح کو بھیجے ۔ اور کریم جب وعدہ کرتا ہے تو پورا کرتا ہے۔ اور ہمیں حکم ہے کہ ہم نرمی اور حلم کے ساتھ حجت کو پوری کریں ۔ اور بدی کے عوض میں بدی نہ کریں مگر اس صورت میں جب کوئی شخص رسول اللہ صلی اﷲ علیہ وسلم کو گالیاں دینے اور اہانت کرنے اور فحش گوئی میں حد سے بڑھ جائے ۔ پس ہم عیسائیوں کو گالی نہیں دیتے۔ اور دشنام اور فحش گوئی اور ہتک عزت سے پیش نہیں آتے اور ہم صرف ان لوگوں کی طرف توجہ کرتے ہیں جو ہمارے نبی صلی اﷲ علیہ وسلم کو بصراحت یا اشارات سے گالیاں دیتے ہیں۔ اور ہم ان پادری صاحبوں کی عزتؔ کرتے ہیں جو ہمارے نبی صلی اﷲ علیہ وسلم کو گالیاں نہیں دیتے اور ایسے دلوں کو جو اس پلیدی سے پاک ہیں ہم قابل تعظیم سمجھتے ہیں اور تعظیم و تکریم کے ساتھ ان کا نام لیتے ہیں۔اور ہمارے کسی بیان میں کوئی ایسا حرف اور نقطہ و ہر چہ خواہد بظہور آرد۔ و مقتضائے وعدہ آں بود کہ مسیحخو د را جہت شکستنِ صلیب بفرستد و کریم را عادت است و کسر شاں صلیب و تکذیب امرش با دلائل روشن است۔ وما مامو ریم بایں کہ بانرمی و برد باری اتمام حجت بکنیم و در جائے بد بد روئے کارنیاریم بلے ہر گاہ کسے رسول کریم ما رابد بگوید البتہ اوراپاسخ درشت می دہیم۔ ما نصاریٰ را دشنام نمی دہیم و زنہا ر د رپو ستین شان درنمے افتیم و روئے ہمت ما مخصو صاًمتوجہ با نہااست کہ باشارہ و صراحت سید و آقائے مارا ( صلی اللہ علیہ وسلم ) دشنام دہند۔ ما کشیشانے را کہ عادت سقط گفتن ندارند بزرگ د اریم۔ ودلہائے را کہ از اینؔ گندگی و ناپاکی پاک انداحترام وا جب دا نیم و نام شان بہ نیکی برزبان آریم۔