سرٌّ لا یفہمہ إلَّا قلوب الأبدال۔
ثم إذا کان حمدہ بإیثار وجہ اللّٰہ والإقبال علیہ بنفی أہواء النفس والحفد إلیہ بإخلاص وصدق وتوحید، فرجع اللّٰہ الیہ صلۃ منہ
ما أرسل إلی ربّہ من تحمید، وکذالک جرت سُنّتہ بکل
صدیق وحید، فحُمِّد مُحمّدُنا
فی الأرض والسماء بأمر ربّ مجید۔ وفی ہذا تذکرۃ للعابدین، وبشری لقوم حامدین۔ فإن اللّٰہ
یردّ الحمد إلی الحامد ویجعلہ
من المحمودین، فیُحمد
فی العالمین، ویوضع
احمد ہے۔ اور یہ وہ بھید ہے جس کو محض ابدال کے دل سمجھتے ہیں اورکوئی دوسرا سمجھ نہیں سکتا۔ اورؔ پھر جبکہ آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کی تعریفیں اس وجہ سے تھیں کہ انہوں نے خدا تعالیٰ کو اختیار کر لیا تھا اور ہوا ء نفس سے الگ ہو کر خدا کی طرف متوجہ ہو گئے تھے اور اخلاص اور صدق اور توحید سے اس کی طرف دوڑے تھے۔ سو خدا نے وہ تعریفیں بطور انعام کے ان کی طرف واپس کر دیں اور تمام یگانہ صدیقوں سے اس کی یہی عادت ہے کہ وہ حامد کو محمود بنا دیتا ہے۔ پس ہمارا نبی محمدصلی اﷲ علیہ وسلم زمین و آسمان میں تعریف کیا گیا اور اس قصے میں پرستاروں کے لئے یا د رکھنے کی بات ہے اور خدا کے ثنا خوانوں کو اس میں بشارت ہے کیونکہ خدا تعریف کرنے والے کی تعریف کو اسی کی طرف ردّ کر دیتا ہے اور اس کو قابل تعریف ٹھہرا دیتا ہے۔ پس وہ دنیا میں تعریف کیا جاتا ہے اور اس کی
و دیگرے را نرسددر گرد این کوئے بگردد۔ وچون ستایش آنجناب ازاین جہت بود کہ خدا را برگزیدہ واز آزو ہوائے خود بکلی دامن کشیدہ۔ وہمہ تن محضاً رو بخدا گردیدہ و از اخلاص و توحید و صدق بسوئے او دیدہ بود لہٰذا خد اتشکر اً و انعاماً آن ہمہ ستایش ہارا بو ے باز گردانید و عادۂ خدا باکل صدیقان یگانہ بر ہمین نہج جاری بودہ است کہ حامد را محمود سازد۔ پس نبی ما محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم )در زمین و زمان ستودہ شد۔ این قصہ نمونہ و تذکرہ ایست از برائے پر ستاران خدا و مثر دہ ایست از پَے ستایش کنند گان وے چہ خدا را عادۃ است کہ ستایشِ ستایش کنند گان را بد یشان بازمیگرداند و اوشان را سز ا وار ستایش خلق میسازد