أنہ یکسر الصلیب بالمسیح الموعود* ویُتم ما سبق من العہود، وإن اللّٰہ لا یُخلف المیعاد * قدجرت عادت اﷲ بانہ یستأنف للتجدید عزیمۃ جدیدۃ عند تطرق الفساد الٰی قلوب العباد۔ فلاجل ذالک تجلّٰی علیّ لینفخ الروح فی الاجساد و جعلنی مسیحا و مھدیا و ارشدنی بکمال الرشاد۔ ووصّانی بقول لیّن و ترک الشدّۃ والاتقاد۔ واما کسرالصلیب فقد استعمل ھٰذا اللفظ فی الاحادیث۔ والاٰثار۔ تجوزًا من اﷲ القھّار۔ وما یُعْنٰی بہ حرب و غزاۃ و کسر الصلبان فی الحقیقۃ۔ و من زعم کذالک فقد ضل و بعد من الطریقۃ۔بل المراد منہ اتمام الحجّۃ علی الملّۃ النصرانیۃ۔ وکسر شان الصلیب و تکذیب امرہ بالادلّۃ کہ مسیح موعود* کے ساتھ صلیب کو توڑے گا اور اپنے عہدوں کو پورا کرے گا اور خدا تعالیٰ تخلف وعدہ نہیں کرتا۔ * خدا تعالیٰ کی عادت یوں جاری ہوئی ہے کہ وہ بروقت کسی فساد کے تجدید دین کے لئے از سرنو توجہ فرماتا ہے ۔ پس اسی لئے اس نے میرے پر تجلی کی تاکہ اجساد میں روح پھونکے اور مجھے مسیح اور مہدی بنایا اور تمام سامان رشد کا مجھے عطا فرمایا اور مجھے وصیت کی کہ میں نرم زبانی اختیا ر کروں اور سختی اور افروختہ ہو نے کو چھوڑدوں۔ مگر کسر صلیب کا لفظ جو حدیثوں میں آیا ہے وہ بطور مجاز کے استعمال کیا گیا ہے اور اس سے مراد کوئی جنگ یا دینی لڑائی اور در حقیقت صلیب کا توڑنا نہیں ہے اور جس شخص نے ایسا خیال کیا اس نے خطا کی ہے بلکہ اس لفظ سے مراد عیسائی مذ ہب پر حجت پوری کرنا اور دلائل واضح کے ساتھ صلیب کی شان کو توڑنا ہے۔ کہ از واسطۂ مسیح موعود* صلیب را خواہد شکست و خدا ہرگز خلاف وعدۂ خود نکند۔ * عادہ الہٰیہ باین طور جاری است کہ در ہنگام فساد دلہا از سر نوروے بہ تجدید دین آرد۔ لہٰذا برمن تجلّی فرمود تا روح در کالبدہا بدمد۔ و مرا مسیح و مہدی کرد و ہمہ سا ز و برگ رشد بر من ارزانی د اشت و برائے گفتار نرم و ترک سختی و اشتعال امر نمود۔ و لفظ کسر صلیب در احادیث و آثار مجازاًاطلاق شدہ و مراد ازاں جنگ و پیکار دینی و حقیقتہً شکستن صلیب نیست ہر کہ حمل بر ظاہرش کند ازراہ راست دور است بلکہ مرادازان اتمام حجت بر ملّۂ نصارےٰ