یکونوا منفکین حتی تأتیہم البیّنۃ، وتتجلّی الآیات المبصرۃ۔ فبعث اللّٰہ رجلا علی اسم المسیح فی الملّۃ تکرمۃً لہٰذہ الأمّۃ، بعد ما کمل الفساد، وکثر الارتداد، وعاثت الذیاب، ونبحت الکلاب، وألّفوا کتبا کثیرۃ محتویۃ علی السبّ والشتم والتوہین۔ وجلبوا علی المسلمین بخیلہم ورجلہم
وجاء وا بالإفک المبین۔ وزلزلت الأرض زلزالہا، وأری الضلالۃ کمالُہا، وطال الأمد علی الظالمین. وقد کان وعد اللّٰہ عزّو جلّ
وہ با ز آنے والے نہیں تھے جب تک کہ ان کے پاس کھلا کھلا نشان نہ آوے اور جب تک کہ روشن خوارق ظاہر نہ ہوں ۔ پس خد اتعالیٰ نے ایک انسان کو مسیح کے نام پر ملّت اسلام میں بھیجا تا اس امت کی بزرگی ظاہر ہو اور یہ بھیجنا اس وقت ہو ا کہ جب فساد کمال کو پہنچ گیا اور لوگ کثرت سے مرتد ہونے لگے اور ذیاب نے تباہی ڈالی اور کلاب نے آوازیں بلند کیں اور بہت سی کتابیں گا لیوں سے بھری ہو ئی تالیف کی گئیں اور جھوٹ کی فوجوں اور
ان کے سواروں اور پیادوں نے اسلام پر چڑھائی کی اور زمین پر ایک زلزلہ آیا اور
گمراہی کمال کو پہنچ گئی اور ظالموں کی کارروائی لمبی ہو گئی ۔ اور خد اتعالیٰ کا وعدہ تھا کہ
ود شوار است کہ ایشان بر راہ راست بیایند تا بوقتے کہ نشانہائے واضح ظاہر نہ شوند و خوارق عجیبہ بظہور نیا یند۔ پس خدا شخصے را بنام مسیح در ایں ملت مبعوث گردانید تا بزرگی و فخر این امت عیاں شود۔و این بعثت در وقتے روئے کار آمد ہ است کہ فساد بحد کمال رسیدہ و ارتداد از پایان در گزشتہ۔ گرگان ور زیان و تباہی دویدن گرفتندو سگان عوعو کردن۔ و بسیارے از کتابہا پُر از دشنام و بہتان چاپ شدند۔و سوارہ و پیادۂ دروغ بر اسلام تاختند وزمین را تپ لرزہ گرفت و گمرہی بغایت رسید و کارروائی ستمگاران و درازی یافت و خدا وعدہ فرمودہ بود